اجنبی تاریخ : منظور رحمانی ایڈووکیٹ سپریم کورٹ

میرے اُستاد نے مجھے میری تاریخ نہیں پڑھائی، اجنبی تاریخ پڑھائی، کیونکہ اس کے استاد نے اسے وہی تاریخ پڑھائی تھی.

اُستاد نے مجھے پانی پت اور دِلی کے بادشاہ، ایک دوسرے کے خون سے ہاتھ رنگنے والے ظہیر الدین بابر اور ابراہیم لودھی کی تاریخ تو پڑھائی لیکن سرائیکی شہسوار مظفر خان کو مجھ سے چھپایا کیونکہ اس بیچارے کو خود معلوم نہیں تھا کہ لودھی سے زیادہ زیرک اور بہادر والئی ملتان نے رنجیت سنگھ کی فوجوں کے خون سے جنگ کا سارا میدان رنگ دیا تھا. اسے تو لاہور میں لکھی گئی کتاب تھمائی گئی جو اس نے ایمانداری سے مجھے پڑھائی اور یاد کرائی. اسے کہا گیا تھا کہ وہ مجھے بنگال کا سراج الدولہ تو پڑھائے لیکن راوی کنارے انگریز برکلے کو ذبح کرنے والا احمد خان کھرل نہ پڑھائے کیونکہ وہ "کھرلاں دی بار بہاولنگر” کا میرا اپنا سرائیکی تھا.

اُسے حکم تھا کہ وہ مجھے رضیہ سلطانہ پڑھائے لیکن صفیہ خانم نہ پڑھائے جو میدانِ جنگ میں شمشیر بدست گھوڑے کی زین پر شہید ہوئی. اسے حکم تھا کہ وہ دِلی کو محض اپنی ملک گیری کی خواہش کے تحت مسلمانوں کے ہی خون سے رنگنے والا نادر شاہ تو پڑھائے لیکن تختِ دلی کے احکامات مسترد کرنے والا ملتان کا گورنر کَچلُو خان نہ پڑھائے جس نے تختِ دلی کے باغی کی حنوط شدہ لاش کا جلوسِ رسوائی نکالنے سے انکار کیا تو اس کی پاداش میں فوج کشی کراکے مروا دیا گیا.

اُسے تاریخ میں مغلوں کے کٹے ہوئے سر تو دکھائے گئے لیکن راجن پور کے قبائلی پہاڑوں میں غلام حسین مشوری کا کٹا ہوا سر نہ دکھایا گیا جسے انگریزوں کو خوش کرنے کے لئے خُرجین میں ڈال کر لے جایا گیا تھا. اسے حکم تھا کہ وہ مجھے جلیانوالہ باغ کا ظلم تو پڑھائے لیکن اَلنگ، خُونی بُرج، اور چوک شہیداں کی بربریت نہ پڑھائے.

استاد نے حکم کے تابع مجھ سے حسن بخش بَجا چھپایا اور دلی اور لکھنو کے پہلوان پڑھائے. اس نے بابائے اردو عبد الحق تو پڑھایا لیکن سرائیکی کی شناخت خواجہ فرید نہ پڑھایا. اس نے اِلہٰ آباد کا اکبر اِلہٰ آبادی تو پڑھایا لیکن بہاولپور کا خرم بہاولپوری نہ پڑھایا. دِلی کا مِیر درد تو پڑھایا لیکن شاہ سیفل لکھنے والا لطف علی، ڈوہڑے کا دیوتا احمد خان طارق اور انوکھی طرز کا کافی گو اشو لال نہ پڑھایا.

مگر میں اتنا گیا گزرا بھی نہیں ہوں. میں نے اپنے بزرگوں اور ہیروز کو استاد کے پڑھائے بغیر ہی پڑھ لیا. میں نے استاد کی پڑھائی ہوئی اجنبی تاریخ مسترد کردی اور سچی تاریخ سیکھ لی. جس میں میری اپنی مٹی کی خوشبو بھی ہے اور ماں دھرتی کا درد بھی ہے

پوسٹ ٹیگز:

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*
*