سابق وزیراعلی سندھ ڈاکٹر ارباب غلام رحیم کی یوسف رضا گیلانی سے اظہار تعزیت ——- ملتان ( نمائندہ سرائیکستان)

 

ملتان ( نمائندہ سرائیکستان) سابق وزیراعلی سندھ ڈاکٹر ارباب غلام رحیم نے کہا ہے کہ ملک میں پہلے احتساب اور پھر انتخابات ہونے چاہیئں (ن) لیگ نہ وفاق میں ہو گی نہ صوبے میں نگران سیٹ اپ 90دن سے لمبا ہو سکتا ہے سندھ میں پی ٹی آئی گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے ساتھ ہو گی یوسف رضا گیلانی کو زرداری کی بجائے ملک کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیئے تھا پرویز مشرف کو سیاست نہیں کرنی چاہیئے ہم سرائیکی صوبے کے حامی ہیں پیر پگاڑا کی پیشین گوئی درست ہے کہ آئندہ حکومت مسلم لیگ کی ہو گی ان خیالات کا اظہار انہوں نے مخدوم ہاﺅس میں دربار عالیہ حضرت موسی پاک شہید ؒ کے سجادہ نشین مخدوم سید وجاہت حسین گیلانی ؒ کی وفات پر ان کے صاجزادے سید ابوالحسن گیلانی ، سابق وفاقی وزیر سید تنویر الحسن گیلانی سے اظہار تعزیت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہو ئے کیا اس موقع پر سابق ڈپٹی میئر حاجی اختر بھٹہ ودیگر رہنما بھی موجود تھے ڈ اکٹر ارباب غلام رحیم نے مزید کہا کہ اگر احتساب کا عمل مکمل نہ ہوا تو جمہوریت کو خطرہ ہو سکتا ہے لوٹی ہو ئی دولت واپس آنی چاہیئے کیونکہ اگر اب ریکوریاں نہ ہوئیں تو پھر مشکل ہو سکتا ہے اللہ اللہ کرکے ایک مہینہ پورا ہو جائے تو نگران سیٹ اپ سامنے آئے گا لیکن یہ سیٹ اپ صرف 90دن کے لئے نہیں لمبی مدت کے لئے ہو سکتا ہے البتہ جو بھی نگران سیٹ اپ آئے گا مکمل طور پر غیر جانبدار ہو گا اور احتساب کے کام کو آگے بڑھائے گا ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف 9سال تک اقتدارمیں رہے وہ سیاسی آدمی نہیں ہیں مشرف کے ساتھ جو لوگ تھے وہ ادھر ادھر ہو گئے جب تک مافیا موجود ہے پرویز مشرف کو ملک میں نہیں آنا چاہیئے اور سیاست بھی نہیں کرنی چاہیئے پہلی بار عدلیہ صیح طور پر کام کر رہی ہے جمہوریت کے مستقبل اور تیسری قوت کے سامنے آنے کے سوال پر انہوں نے کہا کہ تیسری قوت خود ملک کو چلا رہی ہے اور دوسری قوت بھی اپنا کام کر رہی ہے حکومت کا ایک سے ڈیڑھ ماہ باقی ہے جب احتساب ہو گا تو پھر دیکھاجائے گاکہ یہ بچ جاتے ہیں یا نہیں نواز شریف نے اپنی گفتگو میں وا ضح طور پر کہہ دیا ہے کہ ان کا ٹھکانہ کہیں اور تیار کیا جارہا ہے ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم سرائیکی صوبے کے حق میں ہیں اور یہ حق اب اس خطے کے لوگوں کو ملنا چاہیئے ایک صوبہ 60فی صد آبادی پر ہے جس سے باقی صوبوں کا استحصال ہو رہا ہے اس لئے سرائیکی صوبہ بننا چا ہیئے البتہ سندھ یا کراچی میں صوبے کی کوئی ڈیمانڈ نہیں ہے سرائیکی علاقہ ایک قوم کا علاقہ ہے جبکہ کراچی میں تمام زبانیں بولنے والے لوگ رہتے ہیں انہوں نے کہا کہ کالا باغ ڈیم کو بھی سیاست کی نذر کیا گیا ہے کالاباغ ڈیم نہ بننے کے پیچھے انڈین لابی اور ہمارے جاگیردار شامل ہیں سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے اپنے دور اقتدار میں بہت اچھے کام کئے گیلانی خاندان محب وطن ہے یوسف رضا گیلانی نے سوئیس اکاﺅنٹ کے حوالے سے خط نہ لکھ کر آصف علی زرداری سے وفاداری کی لیکن انہوں نے سٹیٹس مین ہو تے ہو ئے ملک کے ساتھ کھڑا ہو نا چاہیئے تھا گیلانی صاحب نے زرداری کے ساتھ وفاداری کی لیکن انہوں نے گیلانی کے ساتھ وفاداری نہیں کی و یسے بھی سیاست اب یہی رہ گئی ہے کہ قیادت کے وفادار رہو مسلم لیگ کے اتحاد کے سوال پر انہوں نے کہا کہ اگر (ق ) لیگ بن سکتی ہے تو مسلم لیگ کا اتحاد بھی ہو سکتا ہے مسلم لیگ کے اتحاد میں لاہور والوں نے رکاوٹ ڈالی اب نگران سیٹ آنے کے بعد حالات کافی حد تک تبدیل ہوں گے البتہ عدالتیں جو فیصلہ کریں گی وہ آئین کے تحت ہو ں گے انہوں نے کہا کہ نگران سیٹ اپ غیر جانبدار ہو گا اس سیٹ اپ کے بعد پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ کہاں ہوں گے کون جیتا ہے تیری زلف کے سر ہونے تک کیونکہ جہاں احتساب (ن) لیگ والوں کا ہونا ہے وہاں پی ٹی آئی میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جن سے کسی قسم کی رعائیت نہیں ہو گی کیونکہ جہانگیر ترین بھی نااہل ہو چکے ہیں پی ٹی آئی کیونکہ اقتدار میں نہیں رہی اور دوسری طرف پی ٹی آئی نے لاہور میں اچھا جلسہ کیا ہے اور گیارہ نکات بھی دیئے ہیں البتہ سندھ میں میری جماعت پیپلز مسلم لیگ کیونکہ گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کا حصہ ہے اور اس اتحاد میں سندھ کی تحریک انصاف سمیت دیگر جماعتوں کے بھی شامل ہو نے کا امکان ہے انہوں نے کہا کہ سندھ کی ترقی متاثر ہو رہی ہے میرے زمانے میں تھر کے حالات بہتر تھے اب تو لاڑکانہ کی حالت بھی خراب ہے ووٹ کی عزت کی بات کرنے والوں کو ووٹر کی عزت کا خیال رکھنا چاہیئے انہوں نے کہا کہ ہمارا آج بھی مطالبہ ہے کہ پہلے احتساب ہونا چاہیئے اور پھر ملک میں انتخابات کرائے جائیں انہو ں نے کہا کہ میاں صاحب کہتے ہیں کہ صرف میرے مینڈیٹ کی عزت کرو لیکن میاں صاحب نے کبھی دوسروں کے مینڈیٹ کی عزت نہیں کی 2018 میں پیپلز مسلم لیگ سندھ میں اتحاد کے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑے گی اگر پنجاب کے لوگوں نے ضرورت محسوس کی تو یہاں بھی الیکشن میں حصہ لیں گے۔

پوسٹ ٹیگز:

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*
*