سرائیکی صوبے کے قیام کیلئے پیپلزپارٹی نے ہمیشہ آوازبلند کی ،اب بھی صوبہ ہم ہی بنائیں گے: یوسف رضا گیلانی

 

سرائیکی صوبے کے قیام کیلئے پیپلزپارٹی نے ہمیشہ آوازبلند کی ،اب بھی صوبہ ہم ہی بنائیں گے: یوسف رضا گیلانی
ملتان(نمائندہ سرائیکستان)سابق وزیراعظم وسینئروائس چئیرمین پاکستان پیپلزپارٹی سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ ہم نے میثاق جمہوریت مخصوص حالات کی وجہ سے کیا تھا ،اگر مسلم لیگ ن میثاق جمہوریت پرعمل کرتی اور پارلیمنٹ کی بے توقیری نہ ہوتی تو حالات آج مختلف ہوتے ۔ن لیگ نے آئین کی دفعہ 62اور63پر ہمارا موقف مسترد کیا۔میں وزیر اعظم بنا توآئین میں ایک سو چار ترمیم کرکے 1973کا آئین اصل شکل میں بحال کیا ،بلاول بھٹو دس مئی کو لیہ میں جلسہ عام سے خطاب کریں گے۔سرائیکی صوبے کے قیام کیلئے پیپلزپارٹی نے ہمیشہ آوازبلند کی ،اب بھی صوبہ ہم ہی بنائیں گے،جنوبی پنجاب صوبہ محاذ والے ہمارے ہی مشن کو آگے لیکر بڑھ رہے ہیں۔ملتان پریس کلب میں پارٹی رہنماﺅں سینئرنائب صدرجنوبی پنجاب خواجہ رضوان عالم، سابق وفاقی وزیر قیوم جتوئی،نوبزادہ افتخارعلی خان، عبدالقادرشاہین ،ملک نسیم لابر،ملک بشیراحمد،ملک آصف رسول اعوان،خواجہ عمران،چوہدری یٰسین،وحیدالحسن بھٹہ،عابدہ بخاری،سید مطلوب شاہ بخاری، ودیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پیپلزپارٹی نے کبھی بھی اداروں کو تنقید کا نشانہ نہیں بنایا بلکہ ہم نے کوشش کی کہ معاملات کو پارلیمنٹ کے فورم پرحل ہونا چاہیے۔پانامہ کیس کو بھی پارلیمنٹ میں حل ہونا چاہے تھا۔اگریہ میثاق جمہوریت پرعمل کرتے اورپارلیمنٹ کی بے توقیری نہ کرتے تو آج حالات مختلف ہوتے۔پیپلزپارٹی نے پیشکش کی تھی کہ پارلیمنٹ میں قانون سازی کے ذریعے اتفاق رائے پیدا کیا جائے اور 62,63پر بھی پارلیمنٹ اپنا لائحہ عمل طے کرے لیکن ن لیگ نے ہمارے موقف کو مستردکیا ۔انہوں نے کہا کہ اگر کوئی جلسوں میں کسی پرتنقید کررہا ہے تو یہ ان کی پارٹی کی اپنی پالیسی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے میثاق جموریت ایک ٹرائل کی وجہ سے کیا تھا لیکن یہ مخصوص حالات کی وجہ سے تھا ۔ جب میں وزیر اعظم بنا توآئین میں ایک سو چار ترمیم کرکے 1973کا آئین اصل شکل میں بحال کیا ،میں نے جموریت کی بقاءکے لیے کام کیا ۔انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو دس مئی کو لیہ میں جلسہ عام سے خطاب کریں گے،جس کیلئے ملتان میں اجلاس منعقد کیا گیا ہے جس میں لیہ اور ڈیرہ ڈویژن کے پارٹی اراکین نے شرکت کی۔پیپلزپارٹی ذوالفقار علی بھٹوکے دور سے سرائیکی خطے کی محرومیوں کیلئے جدوجہد کررہی ہے۔محترمہ بے نظیر بھٹو کے دور میں بھی اس پرکام ہوا اور میری وزارت عظمی کے دور میں سینٹ میں دوتہائی اکثریت سے علیحدہ صوبہ کا بل پاس ہوا ہے۔اب جو لوگ جنوبی پنجاب صوبہ محاذکے نام پرکام کررہے ہیں وہ اصل میں ہمارے لیے کام کررہے ہیں۔بلاول بھٹو کا لیہ کا جلسہ اصل میں تنظیمیں مکمل ہونے کے بعد معمول کا جلسہ ہے جس کے بعد دیگر شہروں میں بھی جلسے ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں عام انتخابات وقت پر ہونے چاہیں،کراچی میں مردم شماری پرتحفطات کے باوجو د پیپلزپارٹی نے اس لیے تحفظات کا اظہار نہیں کیا تاکہ ملک میں الیکشن بروقت ہوں۔ایک سوال کے جواب پرانہوں نے کہا کہ ابھی حلقہ بندی ختم ہوئی ہے جلد بتا دوں گا کون سے حلقے سے الیکشن لڑنا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر اپوزیشن لیڈر اور حکمران جماعت مل کر نگران سیٹ اپ نہ بنا سکے تو الیکشن کمیشن فیصلہ کرے گا۔آئین کے مطابق اپوزیشن لیڈر اور وزیراعظم ملکر فیصلہ کریں تو نگران وزیراعظم کا فیصلہ ہوسکتا ہے۔انہوں نے کہاکہ 2013کے الیکشن میں پری پول دھاندلی ہوئی،الیکشن سے پہلے صرف خط نہ لکھنے پر ایک منتخب وزیراعظم کو گھر بھیجا گیا،حالانکہ اب کرپشن کے الزام پر ایک وزیراعظم کو نااہل کیا گیا۔صدر کے آفس کو صرف ایک عہدہ رکھنے پرپابند کیا گیا اور پارٹی کا آفس استعمال کرنے سے ہٹا دیا گیا ،اس لیے آصف علی زرداری نے واضح طور پرکہا کہ یہ آر او کا الیکشن تھا۔ان تمام حالات کے باوجود بھی پیپلزپارٹی نے پی ٹی آئی کے مقابلے میں زیادہ نشستیں حاصل کیں جس سے اپوزیشن لیڈر اورپبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کا چئیرمین ہماری پارٹی کا منتخب ہوا۔انہوں نے کہا کہ توقع رکھنی چاہیے کہ 2018کے الیکشن شفاف ہوں گے،البتہ وقت آنے پر پتہ چلے گا کہ الیکشن شفاف ہوتے ہیں یا نہیں۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

پوسٹ ٹیگز:

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*
*