جنوبی پنجاب کی محرومیاں اور ہمارے حکمران:: واجد نواز

پاکستان کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب کی وہ پٹی جو جنوب میں دریائے سندھ کے کنارے واقع ہے اس خطہ کو جنوبی پنجاب کا نام دیا جاتا ہے۔ جنوبی پنجاب ملتان، رحیم یار خان، بہاولپور، بھکر، لیہ، راجن پور، میانوالی، لیہ، ڈیرہ غازی خان، مظفر گڑھ ، خوشاب، لودھراں، وہاڑی، بہاولنگر ، خانیوال ، ساہیوال اور پاکپتن پر مشتمل ہے ، یہاں زیادہ تر نواب، وڈیرے ، خان ، مزاری، گورچانی، گیلانی، کھر، نوانی ، شہانی ، لغاری، ڈھانڈلہ، روکھڑی، شادی خیل، اعوان، اولکھ، سیال، شیخ ، رانا ، گجر برادریوں کے زعماء عرصہ دراز سے یہاں سیاہ و سفید کے مالک ہیں۔ صرف سیاست ہی نہیں یہاں معیشت پر بھی انہیں کا سکہ رائج ہے۔ جنوبی پنجاب کے کئی بڑے نام وزیر اعلیٰ ، گورنر اور وزیر اعظم کے عہدے پر تعینات رہے ہیں، باوجود اس کے وہ یہاں کے عوام کی محرومیوں کے ازالہ کے لیے موثر اقدامات نہ اٹھا سکے ہیں۔ قصہ یہیں پر ختم نہیں ہوتا، سینٹ، قومی اور صوبائی اسمبلی کے ایوانوں میں آج تک چند ایک ناموں کے علاوہ کسی نے آج تک یہاں کے باسیوں کے حقوق کے لیے نہ تو آواز بلند کی اور نہ ہی حکومت وقت سے کوئی موثر مطالبہ کرنے کی جسارت کی ہو۔

اپر پنجاب میں کہیں میٹرو ، اورنج ٹرین ، موٹر وے تو کہیں میڈیکل کالجز بنائے جارہے ہیں، شومی قسمت کہ یہاں کے ممبران اسمبلی میگا پراجیکٹ لانے کی بجائے ایک دوسرے کا مینڈیٹ چوری کرنے ، دوسروں کے منصوبوں پر سیاست چمکانے ، اور سٹے آرڈر کی سیاست کرنے میں مصروف ہیں۔

جنوبی پنجاب سہولیات کے اعتبار سے اپر پنجاب کی نسبت کم ترقی یافتہ ہے ، صوبے کا سارا بجٹ صوبائی مرکز پر لگانے کی وجہ سے جہاں جنوبی پنجاب کی محرومیوں میں اضافہ کیا جارہا ہے وہیں یہاں کے نوجوان بے روزگاری کی دلدل میں پھنس کر یا تو منشیات فروشی یا پھر جرائم کی دنیا میں جارہے ہیں۔

اپر پنجاب کے اضلاع میں موٹر وے بنائے جارہے ہیں جبکہ جنوبی پنجاب کے باسی کئی سال پرانی بنائی گئی ٹوٹی پھوٹی سڑکوں پر سفر کرنے پر مجبور ہیں۔ صرف یہی نہیں پاک چین اقتصادی راہداری میں بھی بھکر سمیت جنوبی پنجاب کے اکثر پسماندہ اضلاع کو ’’ کٹ آف ‘‘ کردیا گیا ۔ مولانا فضل الرحمن کے ایک احتجاج پر روٹ کو موڑا جاسکتا ہے ، کیا حکمرانوں کو جنوبی پنجاب کے کروڑوں عوام کا مطالبہ اور یہاں کی محرومیاں نظر نہیں آتی ہیں ؟؟

ویسے ہم سرائیکی صوبہ جوکہ زبان کی بنیاد پر تشکیل پائے اس کے حق میں نہیں ، لیکن حکومت وقت کے ناروا رویہ اور یہاں کی محرومیوں کو دیکھنے کے بعد محسوس ہوتا ہے کہ یہاں کے باسی کیوں الگ صوبہ کا مطالبہ کررہے ہیں، ایسی صورت حال میں وزیر اعظم پاکستان اور وزیر اعلیٰ پنجاب کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہاں بنیادی سہولیات کی فراہمی اور وڈیرہ ازم سے نجات کے لیے کوئی موثر پالیسی ترتیب دینا ہوگی نہیں تو اندر ہی اندر پکنے والا یہ لاوا کسی دن پھٹا تو صوبے کی سیاست میں ’’ چنگاری ‘‘ ثابت ہوگا ۔

اب ہمارے ’’ وقت حکمرانوں ‘‘ کا ایک اور کارنامہ بھی سُن لیجئے ! تعلیمی اداروں میں سیکورٹی ہائی الرٹ کرنے کے لیے سخت اقدامات کرنے کی ہدایت کی گئی، اپر پنجاب کے تعلیمی اداروں میں سیکورٹی فراہم کردی گئی جبکہ ہمارے ہاں انتظامیہ نے اپنی ’’ روایتی ڈانٹ ‘‘ کے ذریعے سکول و کالجز میں اپنا خوب رعب جمایا اور کئی ادارے سیکورٹی کو بنیاد پر بنا کر سیل کردیے گئے۔ بچوں کا تعلیمی ضیاع کرنے سے قبل یہ نہیں سوچا گیا کہ حکومت کی طرف سے ان تعلیمی اداروں کو سیکورٹی کے لیے کوئی فنڈز مہیا کیے گئے ہیں ؟؟ کم وسائل اور کم وقت میں اتنے سخت سیکورٹی انتظامات کیسے ممکن ہیں ؟؟ اس کا حل بھی حکومت نے خوب ڈھونڈا اور سرے سے تعلیمی ادارے ہی بند کرنے کا ’’ فرمان ‘‘ جاری کردیا ۔

پوسٹ ٹیگز:

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*
*