ملتان میں سرائیکی لوک سانجھ کے زیر اہتمام سرائیکی صوبہ ریلی، ہزاروں افراد نے صوبے کے حق میں فیصلہ دے دیا:مقررین


ملتان میں سرائیکی لوک سانجھ کے زیر اہتمام سرائیکی صوبہ ریلی، ہزاروں افراد نے صوبے کے حق میں فیصلہ دے دیا:مقررین
ملتان(نمائندہ سرائیکستان )ملتان میں سرائیکی لوک سانجھ کی طرف سے سرائیکی صوبہ ریلی کچہری چوک سے گھنٹہ گھر چوک تک نکالی گئی جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی، ریلی میں سرائیکی لوک سانجھ اور سرائیکی عوامی سنگت کے رہنماﺅں کے ساتھ ساتھ تمام سرائیکی جماعتوں کے قائدین نے شرکت کی۔ ریلی کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں خواتین کی کثیر تعداد شریک ہوئی۔ ریلی کی قیادت عاشق بزدار، احسن واہگہ، نذیر لغاری اور مشتاق گاڈی ، عابدہ بخاری، سید مطلوب بخاری نے کی۔ ریلی میں ڈی آئی خان سے ملک خضر حیات ڈیال کی قیادت میں قافلہ پہنچا جبکہ ٹانک سے غفور دمانی اور ساجد دمانی کی قیادت میں بہت بڑا قافلہ ملتان پہنچا۔ سرائیکی صوبہ ریلی چوک کچہری سے شروع ہو کر گھنٹہ گھر پہنچی۔ شرکاءنے ”بہاولپور نہ ملتان، صوبہ صرف سرائیکستان“ تخت لاہور ، تخت پشور، ڈوہیں چور ڈوہیں چور“ تیڈی شان میڈی شان، سرائیکستان سرائیکستان“ جنوبی پنجاب نامنظور“ جنوبی پنجاب صوبہ محاذ ٹھاہ“ گھن تے رہسوں گھن تے رہسوں، سرائیکی صوبہ گھن تے رہسوں“ الوداع الوداع، تخت لاہور الوداع“ الوداع الوداع، تخت پشور الوداع“ کے فلک شگاف نعرے لگائے۔ اس موقع پر سرائیکی لوک سانجھ کے رہنماﺅں کے علاوہ خواجہ غلام فرید کوریجہ، پروفیسر شوکت مغل، ظہور دھریجہ، رانا محمد فراز نون، ارشاد امین، راشد عزیز بھٹہ، مہدی حسن شاہ، عابدہ بخاری، اُجالا لنگاہ، محبوب تابش، فضل رب لُنڈ، مشتاق فریدی، مزار خان اور دیگر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج کی ریلی کامیاب تاریخی ریلی ہے اور ریلی کے شرکاءکی تعداد نواز شریف کے جلسے سے بڑھ کر ہے، نواز شریف کے جلسے میں حکومتی مشینری کا استعمال ہوا اور کروڑوں روپے کے فنڈز خرچ کئے گئے جبکہ سرائیکی صوبہ ریلی میں وسیب کے ہزاروں افراد نے شرکت کر کے فیصلہ دیدیا ہے کہ وہ صوبہ سرائیکستان کے بغیر کوئی آپشن قبول نہیں کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ سرائیکی وسیب کو تقسیم کرنے کے حربے بند کئے جائیں وسیب کے لوگ وسیب کی مکمل حدود اور شناخت کے مطابق صوبہ سرائیکستان لیں گے ۔ ریلی میں سرائیکی شاعروں ، ادیبوں ، دانشوروں کی بڑی تعداد شریک ہوئی خصوصاً چولستان کے سرائیکی گلوکاروں موہن بھگت، آڈو بھگت و دیگر نے سرائیکی نغموں سے ریلی میں جوش و خروش پیدا کیا۔ اس موقع پر سرائیکی نوجوانوں نے سرائیکی ترانوں اور ملی نغموں کی تھاپ پر سرائیکی ثقافتی جھمر پیش کیا۔ یہ ریلی ”مرسوں مرسوں، سرائیکستان نہ ڈیسوں“ کے فلک شگاف نعروں کی گونج میں اختتام پذیر ہوئی۔

پوسٹ ٹیگز:

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*
*