سرائیکی قوم پرست جماعتوں کا اجلاس ، ”سرائیکستان صوبہ محاذ “کے نام سے نیااتحاد قائم کرنے کا فیصلہ

ملتان (نمائندہ سرائیکستان)سرائیکی قوم پرست جماعتوں کا اجلاس جھوک سرائیکستان دولت گیٹ ملتان میں منعقد ہوا، اجلاس میں سرائیکستان قومی اتحاد کے سربراہ خواجہ غلام فرید کوریجہ ، سرائیکستان قومی کونسل کے چیئرمین پروفیسر شوکت مغل ، پاکستان سرائیکی پارٹی کے صدر ملک اللہ نواز وینس، سرائیکی صوبہ موومنٹ کے صدر ملک ممتاز جائی ، پاکستان سرائیکی قومی اتحاد کے مرکزی جنرل سیکرٹری میر نذیر کٹپال ، سرائیکستان جمہوری پارٹی کے چیئرمین سید مہدی الحسن شاہ ، سرائیکستان نوجوان تحریک کے چیئرمین مہر مظہر کات، پاکستان عوامی سرائیکی پارٹی کے صدر اکبر خان ملکانی ، سرائیکی سٹوڈنٹس کونسل قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے جنرل سیکرٹری محمد خان سیہڑ نے شرکت کی ۔ میزبانی کے فرائض سرائیکستان قومی کونسل کے صدر ظہور دھریجہ نے سر انجام دئیے۔ اس موقع پر فون پر سرائیکی وسیب پارٹی کے چیئرمین ملک خضر حیات ڈیال، متحدہ صوبہ موونٹ کے ملک گلزار اترا اور سرائیکستان قومی موومنٹ کے مرکزی سربراہ حمید اصغر شاہین نے فیصلوں کی تائید کی۔ اجلاس میں متفقہ طور پر ”سرائیکستان صوبہ محاذ “کے نام سے نئے اتحاد کا فیصلہ ہوا۔ اجلاس میں طے ہوا کہ نئے اتحاد کے چیئرمین خواجہ غلام فرید کوریجہ ، صدر کرنل (ر) عبدالجبار عباسی ، کو چیئرمین ظہور دھریجہ اور ترجمان ملک ممتاز جائی ایڈووکیٹ ہونگے۔ اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ جس اجلاس میں سرائیکستان صوبہ محاذ کے صدر کرنل عبدالجبار خان عباسی موجود ہوں گے وہ اجلاس کی صدارت کریں گے یہ بھی فیصلہ ہوا کہ سرائیکستان صوبہ محاذ وسیب کی شناخت اور 24اضلاع پر مشتمل صوبہ سرائیکستان کیلئے جدوجہد کرےگا، اجلاس میں طے ہوا کہ آئندہ اجلاس میں با اختیار باڈی تشکیل دی جائے گی جوسرائیکستان صوبہ محاذ کے دستور اور دیگر عہدوں کا فیصلہ کرے گی ، اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ تمام سرائیکی جماعتوں کو سرائیکستان صوبہ محاذ میں شمولیت کی دعوت دی جائے گی ۔ یہ بھی فیصلہ ہوا کہ دیگر جماعتوں میں سے جو بھی صوبہ سرائیکستان کی شناخت اور حدود کی حمایت کرے گا تو اس کا خیر مقدم کیا جائے گا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ لفظ جنوبی پنجاب کی ہر جگہ مزاحمت کی جائے گی اور پاکستان پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف سے ہمارا مطالبہ ہے کہ وہ اپنی جماعتوں میں جنوبی پنجاب کے نام سے بنائی گئی تنظیموں کا نام تبدیل کر کے وسیب کی شناخت کے مطابق نام اناﺅنس کریں ۔ اجلاس میں طے ہوا کہ ٹانک و ڈی آئی خان کے سوا صوبہ قبول نہیں کریں گے ۔ اجلاس میں ٹانک و ڈی آئی خان میں ٹارگٹ کلنگ اور سرائیکیوں کی نسل کشی بند کرانے کا مطالبہ کیا گیا اور چیف آف آرمی سٹاف سے مطالبہ کیا گیا کہ جس طرح انہوں نے کوئٹہ میں ہزارہ برادری سے یکجہتی کا اظہار کیا ہے اسی طرح دیرہ اسماعیل خان میں سرائیکیوں سے بھی یکجہتی کا اظہار کریں اور سرائیکیوں کی ٹارگٹ کلنگ بند کرائیں ۔ اجلاس میں قومی سلامتی سے متعلق میاں نواز شریف کے بیان کی مذمت کی گئی اور کہا گیا کہ سرائیکی وسیب کے لوگ قومی سلامتی کے خلاف کوئی بات برداشت نہیں کریں گے ۔ اجلاس میں جھوک فرید کوٹ مٹھن پر حکومتی گماشتوں کے حملے اور دربار فریدؒ پر پابندیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی ۔ اجلاس میں وسیب کی تقسیم کے فارمولے کو مسترد کیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ سرائیکستان صوبہ محاذ کی یکجہتی کانفرنسیں ڈیرہ اسماعیل خان بہاولپور ، ڈی آئی خان ، میانوالی ، جھنگ ، ملتان اور دوسری جگہوں پر ہوں گی ۔ پہلا کنونشن کوٹ مٹھن شریف میں ہوگا۔ اس کے علاوہ ہر ضلعی صدر مقام پر سرائیکستان یکجہتی کانفرنسیں منعقد کی جائیں گی ۔ اجلاس میں الیکشن 2018ءمیں سرائیکستان صوبہ محاذ کے قوم پرست امیداروں کی بھرپور حمایت کرے گا۔ اجلاس میں محمد بخش براٹھا، غلام اکبر کھوسہ ، سید سبحان شاہ ، محمد اجمل ، جام خادم حسین ، عبدالشکور خان بلوچ، دیوان خالد محمود، کاشف خلیل کٹپال ، شاہ نواز خان جتوئی ، رانا ذیشان علی نون ، سید عامر مشہدی ، ضیغم عباس قریشی، حاجی عید احمد دھریجہ ، معیز علی، پروفیسر پرویز قادر خان، دیوان خالد محمود المعروف سرائیک خان ملتانی، ملک امجد کھوکھر، ذیشان مغل ، طاہر منیر دھریجہ،جام ایم ڈی و دیگر نے شرکت کی ۔

پوسٹ ٹیگز:

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*
*