تحریک انصاف نے اقتدار ملنے پر پہلے 100دن کا پلان دے دیا،جنوبی پنجاب کو زراعت کا حب بنانے کا اعلان


تحریک انصاف نے اقتدار ملنے پر پہلے 100دن کا پلان دے دیا،جنوبی پنجاب کو زراعت کا حب بنانے کا اعلان
ملتان( نمائندہ سرائیکستان)تحریکِ انصاف نے اقتدار ملنے پر ابتدائی 100 دن کا پلان دے دیاجس میں 1کروڑ ملازمتیں فراہم کرنے اور 50لاکھ مفت گھر دینے کا بھی اعلان بھی شامل ہے ۔ تحریکِ انصاف کے 100 روزہ پلان میں ملکی سلامتی، خود مختار نیب، لوٹی دولت کی واپسی، غیر سیاسی پولیس، جوڈیشل ریفارمز، ٹیکس اصلاحات،ہیلتھ، ایجوکیشن اور ایگریکلچر سیکٹر میں ایمرجنسی کا نفاذ سمیت دیگر ایشو شامل ہیں۔پاکستان تحریکِ اںصاف نے اقتدار ملنے پر پہلے 100 دن کا پلان دیدیا ہے جس میں نظامِ تعلیم میں بہتری، طبی سہولیات، زراعت کے شعبے کی بہتری کیلئے انقلابی اقدامات، ٹیکس اصلاحات، جوڈیشل ریفارمز، لوٹی ہوئی دولت کی واپسی، غیر سیاسی پولیس اور ملکی سلامتی سمیت دیگر مسائل شامل ہیں۔اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب میں پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے سربراہ عمران خان کا کہنا تھا کہ منشور کچھ نہیں ہوتا، پیچھے سیاسی ول ہوتی ہے۔ میری حکومت بھی چلی جائے لیکن 100 دن کے پلان پر عملدرآمد کروں گا۔ انسانی معاشرے میں انصاف ہوتا ہے، قانون سب کیلئے برابر اور رحم ہوتا ہے۔ اقتدار کے ابتدائی 100 روز ہماری پارٹی کے نظریات کی عکاسی کریں گے۔ پارٹی کا نظریہ وہی ہے جو پاکستان بنانے والوں کا نظریہ تھا۔ 100 دن کا پلان اس لئے دے رہے ہیں کیونکہ ہم آتے ہی سب سے مشکل فیصلے کرنا چاہتے ہیں۔عمران خان کا کہنا تھا کہ 100 دن پلان کا مقصد ہے کہ پالیسیوں کو تبدیل کریں۔ ملک پر اتنا قرضہ ہو گیا ہے کوئی حکمران بتائے کہ یہ کیسے اترے گا؟ گزشتہ 5 سال میں 21 ہزار ٹریلین قرضہ لیا گیا۔ حکومت نے ملک کو مقروض کر دیا اور قرضہ ادائیگی کی صلاحیت بھی ختم کر دی۔چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ 2013ءمیں ہمیں وفاق میں حکومت مل جاتی تو شاید یہ نہ سیکھ پاتے جو ہم نے 5 سال تک خیبر پختونخوا حکومت میں سیکھا۔ 22 سال میں پہلی مرتبہ دیکھ رہا ہوں کہ ہم الیکشن میں اتنی تیاری سے جا رہے ہیں۔تقریب سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ ہم نے پالیسیوں کی ازسرنو ترتیب اور بیوروکریسی کو غیر سیاسی کرنا ہے، ہم نے ملک کو فلاحی ریاست بنانا ہے۔ کسی بھی ادارے میں جب سزا اور جزا ختم کر دی جاتی ہے تو ادارہ تباہ ہو جاتا ہے۔ ہم نے سول سروسز میں اصلاحات کرنی ہیں۔ ہم نے یہاں کی گورننس سسٹم ٹھیک کر لی تو بیرون ملک سے اوورسیز پاکستان کام کرنے آئیں گے۔ ہم نے نچلے طبقے کو اوپر اٹھانا ہے۔ بیوروکریسی میں سیاسی مداخلت ختم کرنا ہو گی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہاپی ٹی آئی واحد جماعت ہے جو فیڈریشن کی حامی ہے۔ اور وفاق کو مضبوط کرناچاہتی ہے ہم صوبوں کے درمیان عدم توازن ختم کرینگے۔ صوبوں کے درمیان احساس محرومی ختم کرینگے۔ کراچی میں روزانہ 10 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہورہی ہے اور شہری بوند بوند پانی کو ترس رہے ہیں جب کہ کراچی میں کوئی کچرا اٹھانے والا نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ کراچی میں قبضہ مافیا کیخلاف کریک ڈا_¶ن کا ارادہ رکھتے ہیں اور شہر میں ہا_¶سنگ اسکیم کے تحت سستے گھر دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ کراچی میں شہری حکومت کو بااختیار کریں گے اور کراچی کے اداراوں کو سیاست سے پاک کیا جائے گا۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ فاٹا کا احساس عمران خان سے زیادہ کسی کو نہیں لہذا حکومت میں آتے ہی فاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم کریں گے اور انگریز کے کالے قانون ایف سی آر کو فی الفور ختم کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ فاٹا کے عوام کیلیے روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں گے اور فاٹا کے لوگوں کو خیبرپختونخوا کی اسمبلی میں سیٹیں دی جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ حکومتی حلیفوں نے فاٹا معاملے پر ہمارا ڈیڑھ سال ضائع کیا، مولانا فضل الرحمان اور محمود اچکزئی نے حکومت کا ساتھ دیا۔حکومت فاٹا انضمام پر جو آئینی ترمیم کرنا چاہ رہی تھی وہ فاٹا کے عوام کے ساتھ دھوکا تھا دو دن پہلے سپیکر قومی اسمبلی کی صدارت میں جو اجلاس ہوا اس میں ہم نے اپنا مسودہ پیش کیا اور جو حکومت بل پیش کرنا چا رہی ہے اس میں ہمارے مسودے کو من و عن حصہ بنایا گیا اور وہ فاٹا کے عوام کی امنگوں کا ترجمان ہے۔ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں ہم مرہم رکھیں گے اور دلوں کوجوڑیں گے جب کہ بھٹکے ہوئے لوگوں کو اپنائیں گے اور پاکستان کا حصہ بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے ساتھ وعدے تو بہت ہوتے ہیں لیکن پورے نہیں ہوتے۔ان کا کہنا ہے کہ این ڈی ایس ‘ را اور غیر ملکی ایجنسیوں کے اشاروں پر سورش پیدا کرنے والوں کو علیحدہ نہیں کرینگے بلکہ ان کو پاکستان کی سوچ کا حصہ بنائیں گے نیشنل فنانس کمیشن میں تمام صوبو ںکے ساتھ برابری کرینگے انہوں نے کہاجنوبی پنجاب میں احساس محرومی کو دور کرنے کا وقت آگیا ہے اور جنوبی پنجاب کو خود مختار اکائی بنائیں گے۔ن لیگ کا پنجاب میں چھٹا اقتدار ہے اگر ن لیگ اور پی پی چاہتے تو جنوبی پنجاب کو علیحدہ صوبہ بنا سکتے تھے۔پی ٹی آئی رہنما کے مطابق (ن) لیگ کی نیت پر کل بھی شک تھا اور آج بھی شک ہے ۔پیپلز پارٹی نے جنوبی پنجاب صوبہ کیلئے عوام کو لولی پاپ دیا۔ جنو بی پنجاب 11اضلاع پر مشتمل 46قومی اسمبلی کی نشستوں پر مشتمل ہے اور 11کروڑ آبادی پر مشتمل ہے۔انتظامی اورگڈگورننس کے حوالے سے ضرورت اس امر کی ہے کہ جنوبی پنجاب کو علیحدہ صوبہ بنایا جائے۔ ہم جنوبی پنجاب کے محروم علاقوں میں اکنامک پیکج دیں گے اور جنوبی پنجاب زراعت کی ریڑھ کی ہڈی ہوگا۔ انہوں نے کہا جنوبی پنجاب کو زراعت کا حب بنائینگے۔ ہم آئین میں دیئے گئے مروجہ طریقہ کار کے مطابق صوبہ کی بنیاد رکھیں گے۔ جس کیلئے اگر اللہ نے موقع دیا تو ہم اقتدار میں آنے کے بعد تمام سیاسی جماعتوں سے رابطہ کرینگے اور پھر صوبہ کی بنیاد رکھیں گے۔تقریب سے اسد عمر نے بھی خطاب کیا

پوسٹ ٹیگز:

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*
*