انک میں سرائیکی جلسہ‘ جمشید دستی کی قابلِ اعتراض تقریر——– ظہور دھریجہ

انک میں سرائیکی جلسہ‘ جمشید دستی کی قابلِ اعتراض تقریر ——ظہور دھریجہ
ٹانک سرائیکی وسیب کا اہم ضلع ہے۔ یہ خالص سرائیکی بولنے والوں کی سرزمین ہے مگر جنرل ضیا الحق کے فساد کے بعد یہ خطہ مسلسل عذاب کا شکار ہے۔ سوچی سمجھی سکیم کے تحت ٹانک ‘ دیرہ اسماعیل خان کو افغان مہاجرین کا مرکز بنایا گیا ۔ آج ٹانک میں مقامی مہاجر اور مہاجر مقامی نظر آتے ہیں ۔ صورتحال اس قدر خراب ہوئی بقول رمضان شوری (صدر سرائیکی اتحاد )ٹانک میں سرائیکی بولنا بھی جرم سمجھا جانے لگا۔ اسی اثناءمیں سرائیکی اتحاد وجود میں آیا ہے اور آفرین ہے رمضان شوری اور نائب ضلع ناظم آفتاب خان اور ان کے دوستوں کی کہ انہوں نے اتنا بڑا سرائیکی جلسہ منعقد کیا ۔ اس تاریخی جلسے کے یقینا تاریخی اور دورس نتائج مرتب ہونگے ‘ جلسے سے ٹانک میں نیا ولولہ اور نیا جذبہ پیدا ہوا ہے ۔ اس سے خطے میں بسنے والے لوگوں کو حوصلہ ملے گا اور وہ اپنی زبان اور اپنی شناخت کا اظہار فخر سے کریں گے ۔ میں ایک بار پھر کہوں گا کہ اس جلسے کے بعد ٹانک کے لوگوں کو یقینی طور پر اپنے ہونے کا حوصلہ اور احساس ہوا ہے اور یقینا وہ خود معتبر محسوس کریں گے۔ ایک بار پھر دل کی اتھاہ گہرائیوں سے عظیم الشان جلسے کی مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔
میری گزارش ایک بات کے حوالے سے ہے ۔ شکوے کا اظہار کرنا چاہتا ہوں ۔ مجھے اس بات کا بھی احساس ہے کہ ہر بات پر تنقید نہیں ہونی چاہئے اور یہ اچھا نہیں ہوتا کہ اگر سو خوبیاں ہیں تو ان کو چھوڑ کر کسی ایک بات کو لے لیا جائے ۔ میں سو تو کیا اس جلسے کی ایک سو ایک خوبیوں کا معترف ہوں مگر جو ایک غلطی ہے ‘ وہ سو خوبیوں پر بھاری ہے اور مجھے اس وقت تک سکون نہیں ملے گا جب تک میں اس کا اظہار نہ کروں ۔ میں یہ بھی بتانا چاہتا ہوں وہ جمشید دستی کے حوالے سے ہے ۔ جمشید دستی کے بارے میں بتا دوں کہ یہ شخص مجھے مظفر گڑھ کے نواب زادوں ‘ کھروں ‘ ہنجراو_¿ں وغیرہ میں سے بہت زیادہ محترم اور عزیز ہیںکہ یہ وسیب کے غریب کی بات تو کرتے ہیں ۔ لیکن ان کی کچھ باتیں سخت ذہنی کوفت کا باعث بنتی رہتی ہیں ۔ جس کے لئے برائے اصلاح میں تنقید کرتا رہتا ہوں ۔
11 فروری 2018ءدوپہر کا وقت تھا ، ٹانک کے وسیع سٹیڈیم میں لوگوں کا جمِ غفیر تھا ۔ ہر طرف سرائیکی جھنڈے لہرا رہے تھے ۔ جمشید دستی آئے ، ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا ۔ مرکزی تقریر ان کی تھی اس لئے مجھ سمیت تمام مقررین کو مختصر ٹائم دیا گیا ۔ جمشید دستی خطاب کیلئے آئے ‘ ان کے لئے وافر ٹائم تھا، وہ گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ بولے، انہوں نے اپنے خطاب میں سب سے پہلے سامعین کو ہدایت کی کہ وہ تین مرتبہ قل شریف اور سورة فاتحہ پڑھ لیں ‘ سب نے ایسا کیا ۔ اس کے بعد انہوں نے شہید نقیب اللہ محسود کی مغفرت کیلئے دعا کرائی اور محسود قبائل کی تعریف کرتے ہوئے ان کی خدمات کو خراج پیش کیا ۔ اس موقع پر میں نے فوراً چِٹ لکھی اور نوجوان سرائیکی رہنما ملک اکرام ڈیوالہ اور ملک معوذ ارائیں کے ذریعے دستی صاحب تک بھجوائی کہ نقیب اللہ کے ساتھ دو سرائیکی بھی شہید ہوئے ہیں ان کا بھی ذکر کریں اور ان کی مغفرت کیلئے بھی دعا کرائیں ۔ مگر میری درخواست قبول نہیں کی گئی ۔ میں واضح بتانا چاہتا ہوں کہ مجھے نقیب اللہ سے ہمدردی ہے ، میں ماورائے عدالت اس کے قتل کی مذمت کرتا ہوں مگر اس کے ساتھ دوسرے دو سرائیکی محمد اسحاق لانگ اور محمد صابر لانگ سکنہ موضع حیدر لانگ گرواں اوچ شریف ضلع بہاولپور بھی تو ماورائے عدالت مارے گئے اور ان کا بھی قاتل وہی راو_¿ انوار ہے ، ان کا ذکر کیوں نہیں کیا جاتا؟ محض اس لئے کہ وہ غریب سرائیکی تھے ۔ ان کا تعلق کسی جابر پشتون قوم سے نہ تھا ۔ پشتون ازم کی بنیاد پر سینیٹر سراج الحق اور عمران خان طوفان اٹھائے ہوئے ہیں ۔ وہ سرائیکی کی بات کیوں نہیں کرتے ؟ چلو ان کو چھوڑیں سرائیکی کیوں خاموش ہیں؟
میرا جمشید دستی سے سوال ہے کہ
ڈی آئی خان میں ایک عرصے سے ٹارگٹ کلنگ ہو رہی ہے ‘ حال ہی میں بہت سے افراد شہید ہوئے ‘ ان کے قتل کی مذمت کیوں نہیں کی گئی؟اور ان کے لئے فاتحہ خوانی کیوں نہیں کرائی گئی؟
میرا دوسرا سوال ہے کہ
کچھ عرصہ پہلے ڈی آئی خان کے علاقے گرہ مٹہ میں ایک سرائیکی دوشیزہ کو بے لباس کر کے گاو_¿ں میں پھِرایا گیا ، آج تک اس اندوہناک واقعے کا اصل ملزم گرفتار نہیں ہوا ۔ کہاں گئی عمران خان کی ماڈل پولیس اور کہاں ہے خود عمران خان اور اس کا وزیراعلیٰ ؟ کیا جمشید دستی پر لازم نہ تھا کہ وہ اس واقعے کی مذمت کرتے ؟ اور سفاک ملزم کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے ۔ جمشید دستی کو وزیرستان کے محسود یاد ہیں ۔ سرائیکی کیوں یاد نہیں ؟ جو جبر مسلسل کی طرح حیاتی لمحات گن گن کر جی رہے ہیں ۔ جمشید دستی نے محسود قبائل کی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا ، میں پوچھتا ہوں کہ محسود قبائل کی کیا خدمات ہیں جبکہ اس کے مقابلے میں سرائیکی وسیب کی خدمات کا ذکر کروں تو اس پر کئی کتابیں رقم ہو سکتی ہیں۔ جمشید دستی نے مولانا فضل الرحمن کو بہت بڑے بزرگ کے بیٹے کا نام دیا تو میرے ساتھ بیٹھے ہوئے بلند خان اقبال نے کہا کہ وہ فضل الرحمن کا بھی باپ تھااور دوسری طرف بیٹھے ہوئے حاجی عبدالغفور دمانی نے کہا کہ دیرہ اور ٹانک کے سرائیکیوں پر جتنے عذاب نازل ہو رہے ہیں ‘ یہ انہی کے دیئے ہوئے تحفے تو ہیں۔لیکن اس کا کیا کیا جائے کہ جمشید دستی کو ان باتوں کا علم نہیں ۔ ہماری بد قسمتی کہ ہمارے جو رہنما بنے ہوئے ہیں‘ انہیں جب راستے کا خود علم نہیں‘ وہ دوسروں کو کیا بتائیں گے ؟ علامہ اقبال نے کہا تھا کہ نگاہ بلند‘ سخن دلنواز اور جاں پرسوز ، یہی ہے رختِ سفر میرِ کارواں کیلئے ۔ رہبری کے جو تین اصول بتائے بد قسمتی سے نہ نگاہ بلند ہے ‘ نہ سخن دلنواز ہے اور نہ جاں پرسوز ہے ‘ اس لئے ہم سرائیکی ذلیل و خوار ہو رہے ہیں ۔ دو صدیاں تو بیت گئیں ، نہ جانے ابھی کتنی سزا باقی ہے؟
سوال یہ ہے کہ ہم کب تک اپنوں کو نظر انداز اور دوسروں کی خوشامدیں کرتے رہیں گے؟آخر میں یہ کہوں گاکہ ٹانک میں سرائیکی اتحاد کا جلسہ بہت تاریخی اور کامیاب جلسہ تھا مگر جمشید دستی کی معمولی غلطی سے سرائیکیوں کی بجائے محسودوں کے کھاتے میں چلا گیا ۔ اگر نقیب اللہ کے ساتھ وسیب کے شہدا کا بھی ذکر ہو جاتا تو بات کسی حد تک توازن میں رہتی ۔
دیرہ اسماعیل خان اور ٹانک میں جان بوجھ کر خوف و ہراس کی فضا پیدا کی جاتی ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ وسیب کے لوگ عدم تحفظ کا شکار ہو کر سرزمین چھوڑ دیں ۔ سابقہ اور موجودہ ٹارگٹ کلنگ کا یہی مقصد ہے ۔ ہم ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے شہداءکے گھروں میں جانا چاہتے تھے ، ملک وسیم کھوکھر ایک گھر گئے تو وہاں چھوٹا بچہ باہر آیا اور اس نے کہا کہ گھر میں کوئی نہیں ۔ شاید وہ خوف کی وجہ سے باہر نہیں آنا چاہتے تھے یا پھر ترکِ سکونت کر چکے تھے ۔ ایک اور گھر سے پتہ کرایا تو ان کے بارے میں پتہ چلا کہ وہ اسلام آباد میں نقل مکانی کر چکے ہیں ۔ یہ حالات ہیں ۔ اگر یہی صورتحال رہی اور جمشید دستی سمیت کسی نے ساتھ دینا تو کجا رہا ‘ زبان سے ہمدردی کے دو بول بھی ادا نہ کئے تو پھر بہشت جیسی سرزمین پر میٹھی زبان بولنے والے سرائیکی نہیں کوئی اور قابض ہو جائیں گے۔

پوسٹ ٹیگز:

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*
*