ھجرت، دہری شہریت اور ماں باپ کی قبریں——–


ھجرت، دہری شہریت اور ماں باپ کی قبریں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دہری شہریت، ووٹ کا حق، پاکستان میں کام کرنے کی اجازت، الیکشن لڑنے کی اہلیت اور کوئی سرکاری آفس لینے کی اجازت وغیرہ وغیرہ پر جملے اور حملے ھوتے رہے اور اپنے آپ کو دکھی ھونے کے باوجود محسوس نہیں کیا کیونکہ خیال یہ ھوتا تھا کہ لوگ ملتان اور تونسہ سے لاھور تو جانے کی زحمت یا توفیق ھوتی نہیں لیکن گوگل اورانٹرنیٹ کے ذریعے تمام ممالک کے بارے میں اپنی معلومات جھاڑنے سے باز نہیں آتے لیکن جب رووف کلاسرا نے اپنےپورے پروگرام کا تقریبا اچھا خاصہ حصہ بلکہ ایک سے زیادہ پروگراموں میں اس موضوع پر بہت سیریس انداذ میں پورے اعداد و شمار کے ساتھ بات کی تو مجھے کئی وجوہات کی بناء پر افسوس سے زیادہ غصہ بھی محسوس ھوا اور تمام انسانوں کی طرح جب بات اپنے پر آتی ھو تو دکھ بھی زیادہ ھوتا ھے۔اور ایک وجہ یہ بھی بنی کہ بہت سوں کے بر خلاف کلاسرا صاحب ایک well travelled آدمی ہیں اور عموما تحقیق کے ساتھ بات کرتے ہیں۔ ان کی مہربانی کہ وہ میرے گھر مانچسٹر بھی آئے اور جس دوست کے ساتھ مل کر گھر آئے ان کے گھر لندن میں ان سے ایک دو دفعہ کچھ وقت گزارنے کا موقع ملا ۔اور ذاتی طور پر میری معلومات ہیں کہ وہ یہاں لوگوں کے معملات اور معلومات سے پوری طرح واقف ہیں۔ وہ پاکستانی سکالرشپ پر انگلینڈ پڑھتے رہے ہیں اور کئی سال یہاں رہنے کا موقع ان کو ملا ھے اور امریکہ بھی کئی دفعہ جانے اور رہنے کا موقع ان کو ملا ھے ۔ گویا وہ اس بات سے آگاہ ہیں کہ لوگ اور خاص طور پر دوسرے ممالک کے مہاجر اور امیگریشن کرکے آنے والے کس طرح اور کس محنت سے وقت گزارتے ہیں۔
اس صورتحال کو سامنے رکھ کر ان کے دہری شہریت کو ایک دشمنی بنا کر پیش کرنے کی سمجھ نہیں آسکی ۔ جب کہ وہ خود یہاں رہ کر جان چکے ہیں کہ لوگ یہاں رہنے کے باوجود اور دہری شہریت رکھنے کے باوجود پاکستان سے کتنی محبت رکھتے ہیں۔ اور جو لوگ 43 کھرب کے ٹوٹل بجٹ میں سے تقریبا تیسرا حصہ دیتے ھوں اور پاکستان بخوشی لیتا ھو تو وہ دشمنوں سے تو فنڈنگ نہیں لیتا۔ پاکستانی کے اپنے اداروں کی شماریات کے حساب سے 81 لاکھ اور حقیقت میں تقریبا 1 کروڑ آدمی بیرون ملک محنت مزدوری اور ان میں سے امریکہ ، یورپ ، برطانیہ ۔آسٹریلیا اور جاپان میں رہنے والے ڈیول نیشنل پاکستانی بھی شامل ہیں جو اپنا گھر بار چھوڑ کر، اپنے والدین ، اپنے بہن بھائی ، دوست ، گلیاں اور میلے ٹھیلے چھوڑ کر سخت محنت مزدوری کرنے بیرون ملک آتے ہیں۔ اور صرف 2016- 2017 میں تقریبا 17 کھرب کی خطیر رقم پاکستان بھیجی۔ وہ لوگ جو اتنی محنت کی کمائی کرکے پاکستان بھیجتے ہیں اور دہری شہریت رکھتے ہیں ان کو پاکستان سے صرف اس لئے محبت ہے کہ ان کی پیدائش وہاں ھو ئی اور وہ دھرتی کو ماں سمجھتے ہیں۔ اور والدین کی قبریں پاکستان میں ہیں۔اور انگریز اس کو ھمارا مدرلینڈ کہتے ہیں اور ساتھ میں بیک ھوم کا نام دیتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جن ملکوں نے بے یارومددگار ، اپنوں کے ہاتھوں لٹے اور راندہئہ درگاہ لوگوں کو گلے لگایا۔ شہریت دی ، بچوں کو تعلیم دی ان کے ساتھ غداری کرنا ایک انتہائی بڑا جرم ھے لیکن جس طرح ایک آدمی کا دوست ھونے کے لئے دوسرے کا دشمن ھونا ضروری نہیں نہ دوسرے کا غدار ھونا ۔جی ھاں جن ملکوں میں لوگ رہتے ، بستے ہیں ان کو حق فائق ھے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ھے کہ پاکستان کے لئے بھی اتنی ہی شدت سے دل دھڑکتا ھے۔
یو ایس ایڈ ، یو کے ایڈ اور اس طرح ہزاروں این جی اووز ہیں جو پاکستان میں چلنے والے ہزاروں سکولوں، چھوٹے چھوٹے ہسپتالوں کے چلنے کی ضمانت ہیں۔ اور یو کے، یورپ یا امریکہ کی کوئی ذاتی رشتہ داری نہیں کہ یہ فنڈنگ آپ کو فراہم کریں۔ مشرف یا کوئی اور ایڈونچرس غدار پرست حکمران اگر کسی حوالے سے فوجی یا کوئی اور امداد لیتا ھے یا انسانی کرائسس اور حادثات پر جو رقم آتی ھے وہ الگ ہے ۔
کوئی بھی پاکستانی جو کسی بھی ملک کا شہری ھے اور جب وہ دنیا بھر کی خوبصورت اور مزے کی سیر و سیاحت کی خواہش خو ترک کرکے پاکستان جاتا ھے تو ہر دفعہ لاکھوں کا فنڈ وہاں لگا کر آتا ھے اور یہ 17 کھرب کے علاوہ ھے۔ بہت سے غریب ، مسکین لوگ جن کی طرف اعلی درجے کے مسلمان اور اللہ ھما لبیک کہنے والے مڑ کر بھی نہیں دیکھتے نہ ان کو توفیق ھوتی ھے کہ ان کے دکھ درد میں شریک ھوں سوائے اس کہ کسی کے ہاں سے ان کو ھوس کاری کی گنجائش نکلتی ھو۔، یہی بیرون ملک رہنے والے دوہری شہریت یا سنگل والے راندہ درگاہ مدد کو آتے ہیں۔ اور خدا گواہ ھے کہ ایسے بہت سے بلکہ ہزاروں لوگ دیکھے ہیں۔ جو بیرون ملک اچھے بستر اور کپڑوں کو ترستے ہیں۔ اچھے گھر میں نہیں رہ سکتے، بیمار ھوں تو پھر بھی چھٹی نہیں کرتے، زیرو ٹمپریچر ھو یا تندور کی آگ وہاں بارہ بارہ گھنٹے اور کئی تو اس سے بھی زیادہ اور ایک کی بجائے ایک دن میں کئی کئی نوکریاں کرتے ہیں کہ وہ اپنے پیاروں ، والدین کو خوش کر سکیں یا بخشش کے چکر میں چار چار بہنوں پیدا کرنے والے والدین کا بوجھ ہلکا کر سکیں۔ یا ان کے بھائی تعلیم حاصل کر سکیں ۔ کسی بیمار کے علاج کے لئے پیسے بھیج پائیں۔کسی غریب بہن کا سہاگ بچا سکیں جس کے شوہر کو بیک ھوم کے حرام خور حکمرانوں نے فیل کر دیا ھے۔ اور یہ بات اخلاق اور راز کے دائرے سے نکل جاتی ہے کہ لوگوں کی پردہ داری کھولی جائے۔ ورنہ آپ کو ہزاروں ایسے لوگوں کا ایڈریس تو یہ احقر بھی دے سکتا ھے کہ جن کا سوائے خدا اور ان دہری شہریت والوں کے کوئی پرسان حال نہیں۔
دوبئی ایک مہینہ رہنے کا غلیظ تجربہ ھوا۔ وہاں کچھ پاکستانی نوجوانوں سے رابطہ رہا ۔ وہ جو نئے ماڈل کے موبائل اور صاف ستھرے کپڑے پہن کر پاکستان میں رہنے والے بہن بھائیوں کو اپنی جعلی ہنسی اور خوشی کا تاثر دیکر ان کو خوش کرتے ہیں کہ وہ مایوس نہ ھو جائیں اور موبائل مانگنا بند نہ کر دیں ان کے فلیٹس اور گھروں میں جانے کا اتفاق ہوا ۔ایک ایک کمرے میں دس دس لوگ اور ایک ایک بیڈ bunk پر چار چار آدمی سکڑ کر سوتے ہیں۔ اور ان میں وہ بھی ھوتے ہیں جو کم پیسے دے سکتے ہیں وہ رات کو کوریڈور میں دھرے ھو کر سو جاتے ہیں۔ بیمار ھو جائیں تو پیراسیٹامول کے علاوہ کوئی دوائی نہیں کھاتے کہ پاکستان جانے والا بجٹ خراب نہ ھو جائے۔ آپ اگر دوبئی کو اسحاق ڈار کی آنکھوں سے دیکھیں گے تو پھر وہ ایک جنت ہے۔ کیونکہ یہ اصلی غدار ، چوروں کے بچے اور چوروں کے یار تو پاکستان کی بوٹیوں سے یہاں پلازے تعمیر کرکے مزے سے پاکستان میں آنے والی یہ خون پسینے کی کمائی لوٹنے وہاں پہنچتے ہیں اور شکیل الرحمان اور ایسے میڈیا ہاوسز ان کی معاونت کرتے ہیں۔ کہ یہ وہاں پاکستان میں چوک میں کھڑے ڈیوٹی پر لوگوں کو اپنے کنال سے بڑی کاروں سے کچل سکیں۔
کلاسرا صاحب آپ کو دوست سمجھ کر سب کچھ لکھ دیا ۔کہ جتنی بار بھی ملاقات ھو ئی خوشی ھو ئی ۔آپ نے خود یہاں کے حالات دیکھے ہیں۔ اور دن کی روشنی میں بھی دیکھے ہیں۔تو پھر یہاں کے دوہری شہریت والوں کی جس عزت اور تکریم کے وہ حق دار ہیں ان کو گردانیں نہ کہ ان کی گردنیں لیں۔

پوسٹ ٹیگز:

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*
*