ماحولیات کی بنیاد پر جنگیں اور گھر اور ملک بلکہ خطے بدری کا ڈراور پاکستان میں متوقع بننے والی اگلی حکومت سے خدشات—–منصور حسن ھاشمی

ماحولیات کی بنیاد پر جنگیں اور گھر اور ملک بلکہ خطے بدری کا ڈراور پاکستان میں متوقع بننے والی اگلی حکومت سے خدشات—–منصور حسن ھاشمی
بیسویں صدی کا آخری نصف حصہ آنے تک سائینس کی ترقی ، بارڈرز پر پابندی اور کمپیوٹر کی ایجادات کی کمی تھی۔ یوروپ اور انگلینڈ اور امریکہ اور آسٹریلیا کے براعظموں میں اگرچہ تعمیراتی ترقی ھوئی، نہریں اور دریاؤں کی دیکھ بھال کی گئی۔اور پانی کے جہازوں کی بدولت اور سیاحتی مقامات کی تلاش میں کچھ اچھی معلومات مل سکی اور ترقی کو ایک سمت ملنے لگی۔ لیکن اس ترقی کے دلدارہ ملکوں میں شمار ھونے کے باوجود آج انگلینڈ کو بھی وارننگ دی گئی ھے کہ جس طرح تم ملک اور ریسورسز کو خرچ کئے جارہے ھو اس طرح مستقبل قریب اور 2050 میں پانی کی کمی پیش ھو سکتی ھے۔ اور اس رپورٹ میں انگلینڈ کو کہا گیا کہ تقریبا اتنا پا نی کا ضیاع ھو جاتا ھے جتنا تقریبا دو کروڑ لوگوں کے لئے سالانہ کافی ھوگا۔

برصغیر میں قائداعظم جیسے لوگ کوئی ایک بھی نہیں جو اپنی زندگی ختم ھونے تک ملک یا اپنے عوام کی یا اپنے فریم شدہ مقصد حیات پر اپنی جان نچھاور کر دے۔ انگلینڈ اپنے ہدف میں پیچھے ھے تو برصغیر میں تو یہ ہدف قائم ہی نہیں ھوا۔

امریکہ کے ایک سابق نائب صدر الگور نے ایک فلم بنائی ھے ” an inconvenient Truth” جس میں اس نے ماحولیات کے حوالے سے بہت خوفناک منظر کشی کرنے سے پہلے دکھایا کہ اگر آپ کائنات سے محبت کرتے ہیں( یہ کائنات کسی موئنث کا نام نہیں)، اگر آپ اپنے بچوں سے محبت کرتے ہیں تو آپ کو یہ فلم ضرور دیکھنے کی ضرورت ھے۔ اور اسی فلم میں یہ ایک سوال پوچھا گیا ھے کہ کیا کائنات نے ھمیں دھوکا دیا یا ھم نے کائنات کو دھوکہ دیا ھے۔

بظاہر تو ہر مذہب نے ماحول کو بچانے کی پوری کوشش کی ھے ہندو جانوروں کو مار کر یعنی گوشت کھانے کو تیار نہیں اور اس طرح کی بہت سے رسومات کو قائم رکھے ھوئے ہیں جن سے انسانیت کی بظاہر خیریت مطلوب ھے۔ اسلام اس سے آگے گیا کہ ہر چیز کے زیادہ استعمال سے منع کیا ۔وضو کرنے اور نہانے کے لئے ایک یا کچھ لوٹوں کی حد مقرر کی ھے تاکہ پانی ضائع نہ ھو۔ اسی طرح فاتحین کو متنبہ کیا گیا ھے کہ درخت مت کاٹیں۔

اب موجودہ صورتحال میں آجائیں۔ پاکستان میں زراعت ایک غریب کی پہلی  اور آخری امید ھے۔ زراعت کا انحصار پانی کی روانی پر ھے۔ کئی فصلیں اس لئے تباہ ھو گئی ہیں کہ پانی کہ مناسب رفتار نہیں ۔ اور بعض اوقات اتنا پانی ھو جاتا ھے کہ سیلاب سب کچھ بہا کر لے جاتا ھے اور انسان اور جانور پورا سال اپنی روزی سے محرم رہتے ہیں ۔ نہروں کا اور دریاؤں کا جو نظام ھے یا تو وہ تباہ و برباد کر دیا ھے لوگوں نے نہروں میں گھر تعمیر کر لئے ہیں اور دریاؤں اور زیادہ بارش  کی لگام جو ڈیم بنا کر اپنے ہاتھ میِ کی جاسکتی تھی وہ انڈین ایجنٹوں اور نا عاقبت اندیشی سیاسی بونوں کے حوالے کردیا گیا ھے اور اس سے پہلے کہ یہ کچھ سوچتے انڈیا نے 2017 می، دنیا کا سیکنڈ بڑا ڈیم سردار سارور نارمیدا ڈیم بنایا اور اسی طرح کرشنا ڈیم جس سے پاکستان کی طرف آنے والے پانی کو  موڑا جا چکا ھے۔ اب پوڈل افسران بھاگے پھر رہے ہیں لیکن بدمعاشی کا ایک اصول ھے کہ کرلو پھر دیکھا جائے گا ۔ اول تو ہضم ھو جائے گا لیکن اگر دینا بھی پڑے تو اتنا ڈیمیج کر لو کہ مظلوم پارٹی سنبھلنے میں وقت لے۔ اب اگر انڈیا پانی پر کنٹرول کر گیا تو مطلب ھے اس نے بغیر ایٹمی ہتھیار چلائے پاکستان کی ادہ موئی قوم کو مزید مویا کردیا ۔ پہلے ہی یہ قوم بے ایمان وزیراعظم، وزیروں ، سیاست دانوں کے چنگل میں سسک رہی ھے اس پر تماشا کہ زراعت کے لئے اور پینے کے لئے پانی ہی نہیں اور مزید ذلالت آنے کو ھے۔

اب بھی کروڑوں انسان صاف پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں ۔ جنوبی پنجاب میں میلوں کی مسافت پر جوہڑ ہیں جہاں کتے، سور، گائے ،بیل اور تمام چرند پرند پورے برابری اور ہیومن رائٹس کے اصولوں کے تحت پانی پیتے ہیں۔ اور اس کی وجہ سے انسان یہ کنٹیمینیڈڈ پانی پی کر ان کے اجسام سے کیڑے نکلتےہیں۔ اب عمران خان صاحب کی حکومت کی امید نظر آرہی ھے لیکن بد قسمتی سے زراعت ایک ایول جئنیئس کے پاس جاتی نظر آرہی ھے جو اس موضوع کو جانتا تو ھے لیکن کیا وہ اپنے غنڈے کارندوں سے بچ پائے گا ۔ جو لوگوں کو لکھنے پڑھنے پر سالہا سال سے دھمکیا ں دیتے آرہے ہیں ۔ ایک واقعہ اور باقی رہے نام اللہ کا ۔

نوے کی دہائی میں جون کا مہینہ تھا۔ سورج آگ برسا رہا تھا کہ ایک بچی نے آکر بتایا کہ چھوٹے میاں باہر کچھ لوگ ملنے آئے ہیں۔ نہ چاہتے ھوئے بھی باہر ڈیرے میں آیا ۔ ملازمین آنے والے مہمانوں کی کاروں سے اندازہ لگا کر انہیں بڑے ڈیرے میں بٹھا چکے تھے۔ میں آیا ۔ دیکھا تو ھمارا ایک دوست سہو(نام لکھنا مناسب نہیں) اور چند اور لوگ جن میں سے ایک نے اپنا تعارف چودھری منیر کروایا ۔ میں اس کو مل کر صوفہ سنبھال کر بیٹھا تو اس نے کہا قاضی صاحب آپ جس میگزین میں ترین صاحب کے فارم پر سپرنکلز کے سکینڈل اور زرعی ٹانک کے خلاف جو مضمون چھاپا  ھے اس سے ھمارا بہت نقصان ھوا ھے اور ترین صاحب بہت غصے میں ہیں لیکن اگر چونکہ آپ ھمارے جاننے والے زمیندار ہیں آپ اگر اس کی تردید چھاپ دیں تو ٹھیک ھے وگرنہ معاملہ بہت خراب ھو سکتا ھے اور چونکہ شہباز شریف نے ترین صاحب کو بہت کھلا اختیار دیا ھے وہ کچھ بھی کرسکتے ہیں ۔ میں نے اسے “پیار” سے دیکھتے ھوئے کہا آپ بہت خوش قسمت ہیں کہ میرے باپ کے ڈیرے میں آئے ہیں حالانکہ جس طرح آپ اس وقت بھی شراب کے نشے میں ہیں اور ابھی بھی وہاڑی کی  جس کوٹھی میں آپ کچھ خواتین کو “بھگتا” کر آئے ہیں میں یہ بھی چھاپ دیتا اور اگر آپ دفتر آتے تو آپ کو تھپڑ بھی مارتا ۔ بہرحال اس وقت آپ یہ آدھی پی ھوئی پیپسی اور کوکا کولا اور سیون آپ چھوڑ کر پانچ منٹ میں ڈیرے سے نہ نکلے تو دفتر والی شرط یہاں بھی پوری ھو سکتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔

پوسٹ ٹیگز:

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*
*