خود کو بہادر قوم ثابت کریں……طاہر منیر دھریجہ

خود کو بہادر قوم ثابت کریں
طاہر منیر دھریجہ
سرائیکی خطے کے جاگیرداروں نے پچھلے دنوں جنوبی پنجاب صوبہ محاذ بنایا ، بزرگ سیاستدان میر بلخ شیر مزاری اس کے سربراہ بنے ، مخدوم خسرو بختیار جنوبی پنجاب صوبہ محاذ میں پیش پیش تھے ، سرائیکی قوم پرستوں نے محاذ کا تو خیر مقدم کیا البتہ صوبے کی حدود اور شناخت کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کیا ، لیکن ہم نے دیکھا کہ جنوبی پنجاب صوبہ محاذ بننے سے تخت لاہور میں صف ماتم بچھ گئی ۔ میاں نواز شریف ، میاں شہباز شریف اور ن لیگ کی لاہوری قیادت سخت پریشان نظر آئی۔ میاں صاحبان کو مزید پریشان کرنے کیلئے فل پیج کے رنگین اشتہار چھپوا دئیے، روزانہ پریس کانفرنسیںکی جانے لگیں اور اہم سیاسی شخصیات اس محاذ میں شمولیت اختیار کرنے لگیں۔گزشتہ پچاس سالوں میں یہ سب سے بڑا دباﺅ تھا جس کا وزن تخت لاہور والوں نے محسوس کیا اور وہ پریشان نظر آئے۔ وسیب کے نوجوان بھی خوش تھے کہ شاید اب منزل قریب ہو رہی ہے، وہ یہ بھی اندازہ کر رہے تھے کہ شاید ن لیگ الیکشن سے پہلے صوبے کا اعلان کر دے۔
جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے دباﺅ کی وجہ سے لاہورمیں صبح و شام اجلاس ہونے لگے ، بہت سے اجلاسوں کی صدارت میاں نواز شریف نے خود کی اور میاں شہباز شریف تو اتنے پریشان نظر آئے کہ انہوں نے فیصلہ کر لیا کہ فوری طور پر سب سول سیکرٹریٹ قائم کرتے ہیں مگر افسوس کہ جاگیردار سیاستدان بزدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی جگہ نہ ٹھہر سکے اور جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کو تحلیل کر کے تحریک انصاف میں ضم کر دیا۔ ایک طرف مخدوم خسرو بختیار وغیرہ اپنے محاذ کا خود جنازہ پڑھ رہے تھے ، دوسری طرف لاہور میں جشن کا سماں تھا، لاہور کے حکمران خوش تھے کہ ”مصیبت “ٹل گئی ۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ ان بے چاروں نے نہ تو اپنی مرضی سے محاذ بنایا تھا اور نہ اپنی مرضی سے تحریک انصاف میں گئے۔ جن قوتوں نے اتحاد بنایا تھا انہی قوتوں کے اشارے پر ان لوگوں نے قبلہ تبدیل کر لیا، چلو مان لیتے ہیں لیکن کچھ سٹینڈ تو لینا چاہئے تھا، یہ تو ٹشو پیپر ثابت ہوئے اور انہوں نے اپنے غبارے میں خود کانٹا چبھا دیا، بہرحال ان جاگیرداروں کی بزدلی اور بے ضمیری سے سرائیکی تحریک کا بہت نقصان ہوا ہے۔
سرائیکی وسیب کے سیاستدانوں کا سب سے بڑا مسئلہ بزدلی ہے، ان سیاستدانوں نے اپنی بزدلی اور اپنی جہالت کی وجہ سے وسیب کے لوگوں کو 200صدیوں کی غلامی دی ہے مگر آج حالات تبدیل ہو رہے ہیں ، سرائیکی قوم پرستوں نے ان کا گھیرا تنگ کیا ہوا ہے، وہ اپنی تقریروں میں ان کو کوسنے دے رہے ہیں، سرائیکی رہنما ظہور دھریجہ نے کراچی میں سرائیکی سٹوڈنٹس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بزدلی کائنات کا سب سے بڑا جرم ہے ، سرائیکی قوم صدیوں سے شرافت اور بزدلی کی سزا بھگت رہی ہے، مانگنے سے خیرات ملتی ہے صوبہ کبھی نہیں ملے گا، پوری زندگی مسئلے مسئلے کرتے رہے تو مسئلے حل نہیں ہونگے جب تک خود مسئلہ نہیں بنو گے۔ سرائیکی وسیب کا جاگیردار سیاستدان اپنے وسیب کے لوگوں کیلئے شیر ہے جبکہ غیروں کے آگے بھیگی بلی بن جاتا ہے۔ جنوبی پنجاب صوبہ محاذ والوں نے جو بزدلی کا مظاہرہ کیا وسیب کے لوگ ایسے لوگوں پر کبھی اعتبار نہ کریں اور خود طاقت ور بنیں، اپنے لہجے میں تلخی پیدا کر کے آنکھوں میں خون لے آئیں ، اپنے ہاتھوں کو ظالم جاگیرداروں کے پیروں کا واقف کرنے کی بجائے ان کے گریبانوں کا واقف بنائیں، یاد رکھیں! جب تک ہم چیونٹی بنے رہے اُس وقت تک ہاتھی کے پاﺅں کے نیچے دھنستے رہیں گے ، اب خدا کانام مانیں ، چیونٹی نہ بنیں ہاتھی بنیں۔
حرف آخر کے طور پر کہوں گا کہ آج کل تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرنےو الوں کی لائن گی ہوئی ہے، سرائیکی صوبے کے زبردست حامی ڈاکٹر افضل ڈھانڈلہ صاحب نے بھی پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔ نواب صلاح الدین عباسی وسیب کا بہت بڑا نام ہے انہوں نے بھی تحریک انصاف میں اپنی جماعت کو شامل کر دیا ہے، ان کی شمولیت سے یہ فائدہ ہوا ہے کہ وہ اب بہاولپور کی بجائے ایک صوبے پر آ گئے ہیں اور اب وہ ریاستی کی بجائے سرائیکی قومیت کا پرچار کریں گے ۔ لیکن ہم کہتے ہیں کہ وسیب کے لوگ اور وسیب کے سیاستدان اپنے پاﺅں پر کھڑے ہوں ، بزدلی چھوڑیں ، بہادری اختیار کریں اور خود کو سندھیوں ، بلوچوں ، پٹھانوں اور پنجابیوں سے بڑھ کر بہادر قوم ثابت کریں۔

پوسٹ ٹیگز:

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*
*