کا لا باغ ڈیم کی چابی پیپلز پارٹی کے پاس ہے وہ اگر چاہے تو آج کالا باغ ڈیم بن سکتا ہے:انجینئر ممتا ز احمد خان

کا لا باغ ڈیم کی چابی پیپلز پارٹی کے پاس ہے وہ اگر چاہے تو آج کالا باغ ڈیم بن سکتا ہے:انجینئر ممتا ز احمد خان
ملتان (نمائندہ سرائیکستان) انجینئر ز فورم پاکستان کے مرکزی رہنما انجینئر ممتا ز احمد خان نے کہا ہے کہ کا لا باغ ڈیم کی چابی پیپلز پارٹی کے پاس ہے وہ اگر چاہے تو آج کالا باغ ڈیم بن سکتا ہے انڈیا نے کشن گنگا پاور پراجیکٹ کی تعمیر 2007میں شروع کی لیکن اس وقت کے حکمرانوں نے تین سال بعد پہلی مرتبہ 2010میں یہ معاملہ انٹرنیشنل کورٹ آف آر بیٹریشن میں اٹھا یا جس پر عدالت نے پراجیکٹ کی تعمیر تین سال کے لئے ایک اسٹے آرڈر کے زریعے روک دی اس دوران انڈس واٹر کمشنر ودیگر حکام کی ذمہ داری تھی کہ وہ عدالت کو اس پراجیکٹ سے مستقبل میں پاکستان کے نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کو پہنچنے والے نقصان سے آگاہ کرتے لیکن انہوں نے ایسا نہ کیا اور دسمبر 2013میں عدالت نے انڈیا کو دریائے نیلم کے پانی کا رخ موڑنے کی اجازت دی اور صرف 9مکعب میٹر فی سیکنڈ پانی دریائے نیلم میں چھوڑے کا فیصلہ دے دیا عدالت کے اس فیصلے کے بعد انڈیا نے پراجیکٹ پر دوبارہ کام شروع کردیا جس پر دوبارہ ہمارے حکمران 2016میں جاگے اور یہ معاملہ دوبارہ ورلڈ بنک میں لے گئے مگر اس در خواست پر کہا گیا کہ انڈیا اور پاکستان اس مسئلے کو باہمی طریقے سے حل کریں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے اتنے اہم حساس معاملے پر مجرمانہ غفلت کامظاہرہ کیاان خیالات کا اظہار انہوں نے ملتان پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا انجینئر ممتاز احمد خان نے مزید کہا کہ قبل ازیں بگلیہار ڈیم کیس میں بھی ہماری صریح ناکامی اور اب کشن گنگا پراجیکٹ میں بھی ناکامی سے اس گمان کو تقویت ملتی ہے کہ انڈس واٹر کمیشن اور منسٹری آ ف واٹر اینڈ پاور میں جس اہم منصب پر جو لوگ تعینات ہیں کہیں وہ انڈیا کے ایجنٹ کا تو کردار ادا نہیں کر رہے ہیں ان کی پے لسٹ پر تو نہیں ہیں یہ نہائیت سنگین معاملہ ہے جس کا پاکستان کے آبی وسائل اور پاور جنریشن سے براہ راست تعلق ہے حکومت پاکستان سے مطالبہ ہے کہ وہ انڈس واٹر کمشنر اور منسٹری آف واٹر اینڈ پاور میں متعلقہ حکام کا کڑا احتساب کیا جائے

پوسٹ ٹیگز:

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*
*