سکندر بوسن کو تحریک انصاف میں شامل کیا گیا تو کارکن احتجاجی تحریک چلائیں گے ، تحریک انصاف کے قومی و صوبائی اسمبلی کے امیدواروں کا اعلان چوہدری خالد جاوید وڑائچ:

سکندر بوسن کو تحریک انصاف میں شامل کیا گیا تو کارکن احتجاجی تحریک چلائیں گے ، تحریک انصاف کے قومی و صوبائی اسمبلی کے امیدواروں کا اعلان: چوہدری خالد جاوید وڑائچ
ملتان (نمائندہ سرائیکستان)تحریک انصاف کے قومی و صوبائی اسمبلی کے امیدواروں نے اعلان کیا ہے کہ اگر سکندر بوسن کو تحریک انصاف میں شامل کیا گیا تو کارکن احتجاجی تحریک چلائیں گے جس کے دوران چوک نواں شہر پر احتجاجی کیمپ لگایا جائے گا اور ہم بنی گالہ کے سامنے بھی احتجاج کے لئے تیار ہیں جو خفیہ ہاتھ سکندر بوسن کو پی ٹی آئی میں لانے کی کوشش کررہے ہیں ہم ان کی بھی مذمت کرتے ہیں ہمیں عمران خان کی قیادت پر مکمل اعتماد ہے اور وہ اس قسم کے لوٹوں کو کبھی بھی پارٹی میں شامل نہیں کریں گے کیونکہ سکندر بوسن نے اپنے مفاد کی خاطر پہلے پی ٹی آئی چھوڑی تھی ان خیالات کا اظہار این اے 154کے تین امیدواروں چوہدری خالد جاوید وڑائچ، ملک عاصم ڈیہڑ، ملک اسحاق بچہ، صوبائی اسمبلی کے امیدواروں کیپٹن (ر ) ناصر مہے پی پی 211، ملک قادرنواز سانگی پی پی 211، میڈم ذہین کنول پی پی 211،میڈم غزل غازی پی پی 213 ،منور علی قریشی یوسی چیئرمین 13کے علاوہ دیگر رہنماﺅں نے مشترکہ پریس کانفرنس کی خالد جاوید وڑائچ نے مزید کہا کہ سکندر بوسن این اے 154کے ٹکٹ کے لئے تحریک انصاف میں شامل ہونے کے لئے ناکام کوششیں کر رہے ہیں جس کے باعث تحریک انصاف کے کارکنوں میں شدیدبے چینی اور اضطراب پایا جاتا ہے 2013کے جنرل الیکشن میں عمران خان نے سکندر بوسن کو پارٹی ٹکٹ سے نواز ا مگر انہوں نے عین وقت پر انہیں دھوکہ دے کر (ن) لیگ میں شمولیت اختیار کر لی سکندر بوسن نے ابھی تک پارٹی ٹکٹ کے لئے درخواست نہیں دی اور 31مئی 2018تک (ن) لیگ کے لئے سرگرم رہے ہیں حقیقت میں حلقہ این اے 154سکندر بوسن اور گیلانی کے تسلط سے آزاد ہو کر عمران خان کا مضبوط قلعہ بن چکا ہے سکندر بوسن کو پی ٹی آئی کے نظریات سے کوئی دلچسپی نہیں وہ پی ٹی آئی کی مقبولیت کی وجہ سے یہ نشست حاصل کرنا چاہتے ہیں ان کی یہ خواہش کبھی پوری نہیں ہو گی اگر سکندر بوسن نے پارٹی میں شمولیت کی کوششیں ترک نہ کیں اور پارٹی قیادت نے ان سے لاتعلقی کا اظہار نہ کیا تو این اے 154کی ہر یونین کونسل اور شاہراﺅں پر سکندر بوسن کے پتلے جلائے جائیں گے نواں شہر چوک پر بھوک ہرتالی کیمپ لگایا جائے گا اور ہزاروں کارکنوں کا جلوس بنی گالہ پہنچ کر چیئرمین عمران خان کو تمام صورتحال سے آگاہ کرے گا کارکن جاگ چکے ہیں اور سکندر بوسن کا میدان میں ڈٹ کر مقابلہ کریں گے عاصم ڈیہڑ نے کہا کہ پارٹی لیڈر شپ سکندر بوسن کے چہرے کو جانتی ہے وہ کسی طرح بھی انہیں ٹکٹ نہیں دیں گے این اے 154میں تین امیدوار خالد وڑائچ، اسحاق بچہ اور عاصم ڈیہڑ کو ایک سمجھا جائے پارٹی جسے ٹکٹ دے گی باقی امیدوار اسے سپورٹ کریں گے اور اس صورتحال سے ہم نے عمران خان کو آگاہ کردیا ہے عاصم ڈیہڑ نے مزید کہا کہ 1992میں اجوہ وینس نامی شخص نے حیات کمہار کی بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنایا اس واقعہ کی اطلاع ملنے پر میاں نواز شریف جو اس وقت وزیراعلی تھے خصوصی طیارے کے زریعے نواب پور پہنچے انہوں نے سکندر بوسن کی سرزنش کی اور اپنی موجود گی میں اجوہ وینس کو سکندر بوسن کی کوٹھی سے برآمد کرایا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کا کردار کس قسم کا رہا ہے انہوں نے کہا کہ کارکن متحد ہیں عمران خان کو چاہیئے کہ وہ سکندر بوسن کو پارٹی میں شامل نہ کریں ملک اسحق بچہ نے کہا کہ میری تحریک انصاف میں شمولیت سکندر بوسن کے تحریک انصاف میں شامل نہ ہونے سے مشروط تھی جس پر عمران خان نے کنٹینر پر مجھے شاہ محمود قریشی کی موجود گی میں یقین دلایا کہ سکندر بوسن کو پی ٹی آئی میں شامل نہیں کیا جائے گا واضح رہے کہ پریس کانفرنس میں موجود کارکنوں نے پینا فلیکس اٹھا رکھے تھے جن پر سکندر بوسن کی تصویر پر کراس کانشان اور لوٹے بنا کر نامنظور سکندر بوسن نامنظور لکھا ہوا تھا جبکہ کارکنواں نے نامنظور نامنظور سکندر بوسن نامنظور کے نعرے بھی لگائے ۔

پوسٹ ٹیگز:

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*
*