تونسہ کا خوش قسمت جاوید اور لندن کے بدقسمت مریض۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔منصور حسن ھاشمی

تونسہ کا خوش قسمت جاوید اور لندن کے بدقسمت مریض۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔منصور حسن ھاشمی

چند دن پہلے ایک گھر کا دروازہ زور زور سے بجا ، سحری کرکے سونے والی خاتون ہڑ بڑا کر اٹھی تو دو معصوم بچیاں پر امید نظروں لیکن انتہائی ہزیانی کیفیت میں ان کو ساتھ لے کر واپس پہنچیں۔ان بچیوں کی ماں درد اور تکلیف میں مبتلا تھی۔ اسے اپنی گاڑی میں ڈال کر قریب ترین شہر جہاں اس کا علاج ممکن تھا وہ 150 کلومیٹر اور دن اور موسم پہنچتے پہنچتے 50 ڈگری پر پہنج گیا تھا لیڈی ڈاکٹر نے پہچنے پر کہا سیزیریں ھوگا ،دیر سے لائے ھو ۔ وہ بی بی درد کی شدت سے نہ صرف نیلی پیلی ھوئی بلکہ اورنج بھی ھو گئی بالکل لاھور میں چلنے والی ٹرین کی طرح۔

ایک 80 سالہ بزرگ اعتکاف میں تھے جب ان کے چالیس سالہ بیٹا جو تین معصوم بچوں کا باپ تھا کو فوری طور پر گردوں کا پانی نکالنا ( ڈئیلیسس) کے لئے ملتان جانے کی تیاری ھونے لگی ۔ یہ ایک متوسط طبقہ کے نوجوان کی بات ھے۔ اسے ہر ھفتہ گردوں کے مرض کے علاج کے لئے 150 کلومیٹر کا فاصلہ 50 ٹمپریچر میں لانا پڑتا تھا۔
پچھلے ہفتے جب اس جان سے ہلکان انسان کو راستے کی صعوبتوں اور گرمی کی شدت کو برداشت کرتے، پرائیوٹ ایمبولینس کا کرایہ ادا کرکے ملتان پہنچے تھے تو ڈاکٹر صاحب جلدی میں تھے وہ کسی تھوڑے جاننے والے پیرامیڈیکل کے حوالے کرکے لاھور آنے والی چاند رات کی شاپنگ کو نکل گئے تھے اور اس سٹاف نے ضرورت سے زیادہ ڈائلیسسز کر دئیے تھے۔
شکر ھے یہ ڈائلیسسز اس کے آخری ثابت ھوئے کہ ملتان آتے ھوئے یہ تین معصوم بچوں کا باپ ، اپنے باپ کو اعتکاف میں دعا کرتا چھوڑ ، اپنے علاقے کے تمام ریسورسز کو کلثوم نواز کے لندن علاج کے پیسے پورے کرنے کے لئے آج کوٹ ادو کراس کرتے کرتے زندگی کی لائن کراس گیا۔ شکر ھے یہ جنتی تھا کیونکہ آج جمعہ ا لوداع کو فوت ھوا۔ لواحقین کے خوش اور مطمئن ھونے کے لئے اللہ نے بہت سے انتظامات لئے ہیں ۔ البتہ آج اسحاق ڈار بے چارہ لندن میں ایک لگثری ھائی روف میں بڑی مشکل سے بیٹھ کر ہسپتال پہنچا اور رمضان کی اس برکت سے محروم ھو گیا

پوسٹ ٹیگز:

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*
*