سیاست کےان پیران تسمہ پاء سے نجات کیسے ؟ انجم صحرائی۔۔۔لیہ

سیاست کےان پیران تسمہ پاء سے نجات کیسے ؟ انجم صحرائی۔۔۔لیہ

دوستو پا کستان میں مروجہ سیاسی اور انتخابی نظام سے یہ بات واضع ہو گئی ہے کہ اس بو سیدہ اور بد بودار نظام کا مقصد صرف اور صرف اشرافیہ کے ان سدا بہار اقتدار پرست خاندا نوں کو تحفظ دینا ہے جو قیام پا کستان سے پہلے اور آ زادی کے ستر برس گذر جانے کے بعد بھی پیر تسمہ پاء بنے ہو ءے ہیں
کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ ۔۔۔
پیران ِ تسمہ سے خلاصی میں کیسے لوں ؟
جس کو دیا سہارا ، وہ مجھ سے چمٹ گیا
اب سیاست کے یہ پیر تسمہ پاء ، جا گیردار ، سا ہوکار ، ملک ، خان ، وڈیرے ، نواب زادے ، پیر زادے ، مخدوم سبھی اقتدار کی بندر بانٹ میں مصروف ہیں
سو شلزم کے نام پر روٹی کپڑا مکان کا نعرہ لگتا ہے تو یہی سب سے زیادہ مستحق ، اسلام کے نام پر مجلس شوری بنتی ہے تو یہی نظر آ تے ہیں ، جمہوریت کا سورج طلوع ہو تا ہے تو پہلی صف میں یہی سجدہ ریز ہو تے ہیں ، سب سے پہلے پا کستان کا بگل بجتا ہے تو یہی سب سے بڑے محب وطن ، غرض اقتدار کے سنگھاسن پر کو ئی بھی ہو کسی بھی رنگ کا ہو کسی بھی نسل کا ہو اقتدار کے یہ پجاری اس کے سرخیل ۔
اس ظلم اور استحصال کے نظام میں پا کستان کی عوام ، پا کستان کا محنت کش ۔ پا کستان کے اصل وارث غریب عوام کہیں نظر نہیں آ تی ، کسی کو نظر نہیں آ تی ۔ حا لانکہ ان سدا بہار اقتدار پر ستوں کے مقابلہ میں غریب ہاری ، مزدور ، راج ، مستری ، درکھان ، زر گر ، پاولی ، مراثی ، نا ئی ، دیہاڑی دار مزدور ، چھوٹے دکاندار ، چھوٹے کا شتکار ، چر واہے ، جنہیں یہ اقتدارو اختیار پر بیٹھے چند چہرے حشرات الارض سمجھتے ہیں ہزاروں میں نہیں لا کھوں میں نہیں کروڑوں میں ہیں
ستر برس سے ان انگر یزوں کے ان غلا موں نے اس ملک کو کیا دیا ، پا کستان دو لخت ہوا اور بچے کھچے پا کستان کی غریب عوام کو کیا ملا سواءے دکھ ، افسو س اور بے بسی کے
یہ اشرافیہ کتنا طاقت ور ہے کہ تمام ریاستی ادارے اسی طبقہ کے گرد گھومتے نظر آ تے ہیں ہمارے ملک کے سبھی ایوانوں میں بس یہی 100 با اثر خاندان اک عنوان ہیں بس یہی ہمارے نظام کا گھنٹہ گھر بنے ہو ءے ہیں عدل ، انصاف ، سیاست ، اختیار ، اقتدار ، قانون ، آ ئین سبھی راستوں کی منزل بس یہی خاندان ۔۔۔ یہی پیر ، مخدوم ، گیلانی ، قریشی ، کھر جکھڑ ، سیہڑ ، نواب ، راجے مہاراجے ، خواجے ، بھٹو ، زرداری ، میاں، بٹ ، کشمیری ، لغاری مزاری ، دریشک اور عباسی ستر سال سے پہلے بھی یہی تھے اور ستر برسوں کے بعد بھی یہی ۔۔ تاریخ ان کی فلسفہ ان کا
باقی رہی عوام تو یہ کروڑوں کا ہجوم بس حشرات الارض ، کیڑے مکوڑے
نہ ان کا کوئی سیاسی حق اور نہ کو ءی اقتدارو اختیار میں حصہ ۔۔
ہمارے ہاں کے مروجہ بد بودار و بو سیدہ سیاسی نظام میں ان کیڑے مکوڑوں کا بس اتنا کردار کہ بریانی کھا ئیں ، بغلیں بجائیں اور وجن گے ، نچن گے کی بے سری تال پر دھمال ڈالیں ۔۔۔
ایسی افسوسناک صورت حال میں سیاست کے ان پیران تسمہ پاء سے نجات کیسے ممکن ہے ؟ کیا کوئی بتائے گا ؟

پوسٹ ٹیگز:

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*
*