سرائیکی اور اردو زبان میں لسانی اشتراک—————ڈاکٹر خالد اِقبال / ڈاکٹر محمد اجمل مہار

سرائیکی اور اردو زبان میں لسانی اشتراک—————ڈاکٹر خالد اِقبال / ڈاکٹر محمد اجمل مہار

سرائیکی اور اردو زبان میں لسانی اشتراک : ڈاکٹر خالد اِقبال / ڈاکٹر محمد اجمل مہار
اِبتدائیہ:
برصغیر پاک و ہند ایک ایسا خطہ ہے جو تاریخی اعتبار سے بہت اہمیت کا حامل رہا ہے یہی وہ مرکز ہے جہاں وسائل کی فراوانی کے سبب مختلف نسلوں کے لوگ آتے رہے۔ اِسی خطے میں تقریباً پانچ ہزار سال قبل ہڑپہ، ہونجوداڑو، جیسے شہر آباد ہوئے اور وادئ سندھ کی قدیم تہذیب نے جنم لیا جو رفتہ رفتہ پورے برصغیر میں پھیل گئی۔
بُدھ مت کی تعلیمات، سکندرِ اَعظم کی حملہ آوری کے بعد آٹھویں صدی عیسوی میں اِسلام کی آمد، ایرانیوں، تورانیوں، افغانیوں کی آمد سے یہاں مختلف رنگ و نسل کے افراد باہم ملتے رہے، انیسویں صدی میں انگریزوں کے آنے سے ہندوستان کا نقشہ بدل گیا۔ تاہم برِصغیر پاک و ہند میں مختلف نسلوں کے آباد ہوجانے سے اِس خطے میں لسانی تنوّع میں اپنی مثال آپ ہے۔
’’برصغیر پاک و ہند کی وسعت ایک ایسے سمندر جیسی ہے جس میں مختلف زبانوں کے دھارے آملتے ہیں اس میں جتنا لسانی تنوع ملتا ہے شاید ہی دنیا کا کوئی اور خطہ اس کی مثال پیش کر سکے یہاں کے مخصوص تاریخی حالات اور تمدنی عوامل کی بنا پر زبانیں باہم اثر پذیر ہوتی رہیں۔‘‘ (۱)
یہی وہ حقیقت ہے جس کی بنیاد پر کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں لسانی اشتراک وسیع ہے اور جب زبانیں باہمی میل جول رکھتی ہیں وہ ایک گروہ کی صورت ہوتی ہیں مثال کے طور پر اُردو‘ پنجابی‘ سرائیکی‘ پوٹھوہاری اور سندھی میں پایا جانے والا لسانی اشتراک آس پاس کی مختلف زبانوں کے مثالی تعلق کو ظاہر کرتا ہے۔ یوں بھی دنیا کی ترقی یافتہ زبانیں اس بات کی دعویدار نہیں کہ وہ دوسری زبانوں کے اثرات یا الفاظ سے متاثر نہیں لہٰذا کوئی بھی زبان ہو اس کے دیگر زبانوں سے اشتراک کو واضح کرنے کیلئے کچھ تحقیقی و لسانی اصول کام کر رہے ہوتے ہیں جن کیوجہ سے لسانی اشتراک کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ اس تناظر میں سرائیکی اور اردو زبان کے باہمی لسانی اشتراک کے دیگر پہلوؤں پر بحث سے پہلے ہمیں زبان کی اس تاریخی خصوصیت کا ادراک کرنا ہوگاکہ:
’’زبان کوئی بنی بنائی چیز نہ ہے اس کا ایک ایک لفظ‘ لفظوں کی ترتیب اور ان سب کی موجودہ حیثیت گو ناگوں تبدیلی کا نتیجہ ہے اس کے طویل ماضی میں جو تغیرات بھی ہوتے رہے ہیں خواہ ان تغیرات کے اسباب کچھ بھی ہوں انہی کی بدولت اس نے موجودہ رُوپ دھاراہے۔‘‘ (۲)
ہمیں زبانوں کی اس لسانی خصوصیات کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک علاقے سے تعلق رکھنے والی زبانیں جغرافیائی اثرات کے مخصوص صوتی نظام اور مخصوص اصوات و مخارج کی حامل ہوتی ہیں یہی مخصوص اصوت و مخارج ایک خاص گروہ کو تشکیل دیتے ہیں جو کہ مخصوص لب و لہجہ کے باعث معرضِ وجود میں آتا ہے۔ پاکستانی زبانوں کی لسانی مماثلت کے ضمن میں ڈاکٹر عبدالمجید سندھی لکھتے ہیں:
’’موجودہ دور میں اگرچہ ان تمام مقامات کی زبانیں اپنی اپنی جداگانہ حیثیت رکھتی ہیں پھر بھی تلفظ‘ نحوی ساخت اور الفاظ میں یکسانیت کیوجہ سے ایک دوسرے کیساتھ کافی مماثلت رکھتی ہیں۔‘‘ (۳)
لیکن دو زبانوں کے مابین اختلاف یا اشتراک کے اصول کی وضاحت کرتے ہوئے ڈاکٹر مہر عبدالحق کہتے ہیں:
’’علم لسانیات کے عالمگیر اصول و قوانین کی رو سے زبانوں کے باہم اشتراک اور اختلاف کو پرکھنے کا صرف ایک ہی اصول ہے کہ دونوں زبانوں کے افعال اور حروف پر نظر رکھو۔ اسماء اور صفات کو نظرانداز کردو۔ اس لئے کہ زبان کا اصل ڈھانچہ‘ بنیاد یا اساس افعال کی گردان کے طریقوں سے معلوم ہوتا ہے یا پھر ان کے بعد حروف سے تذکیر و تانیث او رواحد جمع کے قاعدوں سے الفاظ کی نشست اور ترتیب سے‘ ضمائر کی تعریف سے اور آخری میں اسماء وصفات سے‘ لیکن اسماء و صفات سے بھی زبانوں کے خاندانوں کا علم نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ یہ الفاظ مختلف زبانیں ایک دوسرے سے یا کسی تیسری مشترکہ سرمائے کی زبان سے مستعار لیتی ہیں‘‘۔ (۴)
اس تناظر میں ’’سرائیکی اور اردو زبان‘‘ کے لسانی اشتراک کا جائزہ لیا جائے تو ہم دیکھتے ہیں زبانیں چونکہ آپس کے سماجی تعلقات کی وجہ سے باہم میل جول اختیار کرتی ہیں اس لئے زبانوں کے لسانی اشتراک میں تاریخی سماجی اور ثقافتی پس منظر اہم دکھائی دیتا ہے۔
پاکستانی زبانوں باالخصوص اردو اور سرائیکی کی بیشتر اقدار مشترک ہیں کیونکہ یہ قریب قریب ایک ہی ماحول میں بڑھی پھلی‘ پھولی ہیں او رایک طرح کے عوامل سے متاثر ہوئی ہیں ان میں لسانی و لغوی مماثلت کی کئی تہیں ہیں جو آریاؤں سے قبل کے ادوار کی ہیں۔ اس اشتراک کی ایک بڑی وجہ دریائے سندھ کو بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر عبدالحق نے ’’ملتانی زبان اور اس کا اردو سے تعلق‘‘ میں اس حوالے سے تفصیلی بحث کی ہے جس سے درجہ ذیل نتائج اخذ کئے گئے ہیں۔
اردو اور سرائیکی زبان لسانی پیمانے کے مطابق باہم مشترک ہیں جس کے بنیادی نکات درج ذیل ہیں:
o ملتانی (سرائیکی) زبان کا اردو کے ساتھ جو بنیادی تعلق ہے وہ یہ ہے کہ جن حالات کے ماتحت اردو معرض وجود میں آئی انہی حالات کے زیر اثر ملتانی (سرائیکی )زبان نے بھی جنم لیا۔
o ملتان زبان (سرائیکی) کی تاریخ ہمیں یہی بتاتی ہی کہ جوں ہی عرب مسلمانوں نے اور ان کے فارسی‘ نزکی اور بلوچی زبانیں بولنے والے عساکر نے وادئ سندھ میں قدم رکھا‘ ایک نئی زبان کی بنیاد پڑنا شروع ہو گئی۔
o ملتانی(سرائیکی) اور اردو کے تعلق کی وضاحت کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں کہ اس سلسلے میں ہمیں خارجی شواہد کے ساتھ ساتھ داخلی شواہد کا جائزہ لینا ہوگا اس سلسلے میں ڈاکٹر مہر عبدالحق نے حافظ محمود شیرانی کی رائے بھی درج کی ہے کہ:
’’ اردو اپنی حرف و نحو میں ملتانی زبان کے بہت قریب ہے۔ دونون میں اسماء و افعال کے آخر میں الف آتا ہے دونوں زبانوں میں جمع کا طریقہ مشترک ہے یہاں تک کہ دونوں میں جمع کے جملوں میں نہ صرف جملوں کے اہم اجزاء بلکہ ان کے والبات و ملحقات پر بھی ایک ہی قاعدہ جاری ہے دونوں زبانیں تذکیر و تانیث کے قواعد افعال مرکبہ و توابع میں متحدہ ہیں‘‘۔ (۵)
اردو اور سرائیکی زبان لسانی پیمانے کے مطابق باہم مشترک ہیں جس کے بنیادی نکات درج ذیل ہیں:
o صوتی مماثلت زبان میں موجود آوازوں کا مطالعہ
o فونیمیات آوازوں کی امتیازی اکائیوں کا مطالعہ
o مارفیمی مماثلت زبان کی بامعنی چھوٹی چھوٹی اکائیوں کا مطالعہ
o نحوی مماثلت زبان کے جملوں کی ساخت اور ترتیب کا مطالعہ
o عاریت (Borrowing) الفاظ ادھار لینے کا عمل
عہد حاضر میں پاکستانی زبانیں باالخصوص سرائیکی اور اردو اپنی علیحدہ علیحدہ شناخت کے باوجود‘ لفظی‘ نحوی‘ تلفظ‘ ساخت اور صدیوں کی تہذیبی ثقافتی ہم آہنگی کے سبب بہت زیادہ مماثلت رکھتی ہیں۔ اگر چہ صوتیات کے پہلو سے زیادہ تر حروف سرائیکی اردو زبانوں میں مشترک ہیں لیکن چند حروف صوت مختلف ہیں جن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پروفیسر شوکت مُغل لکھتے ہیں:
’’سندھی اور سرائیکی دونوں زبانوں میں‘ گ‘ ڈ۔ب۔ ج کے حروف کی صوتیات ایک ہیں جو انتہائی منفرد خوبی ہے ان حروف کی ادائیگی اہل زبان کے علاوہ دیگر بولنے والوں کے لیے مشکل ہی نہیں قریب قریب ناممکن ہے‘‘۔ (۶)
ماہر لسانیات کا کہنا ہے کہ یہ آوزیں اردو اور نہ ہی کسی قدیم زبان سنسکرت یا کسی اور پراکرت میں ہیں بلکہ یہ آوازیں سندھی اور سرائیکی کی پہچان ہیں تاہم سرائیکی اور اردو زبان میں لسانی‘ نحوی‘ معنوی و دیگر حوالوں سے مطابقت و مشابہت بہت گہری ہے۔
لسانی اور معنوی لحاظ سے اُردو اور سرائیکی زبان میں مشابہت ہے اس لحاظ سے بہت سے مصادر دونوں زبانوں میں مشترک ہیں ۔
مثلاً مشترک مصادر:
اُردو سرائیکی
ابھرنا ابھرن
بگاڑنا وگاڑن
ترسنا ترسن
ٹنگنا ٹنگن
مرکب مصادر:
شور مچانا شور مچاون
اودھم مچانا ادھم مچاون
بچاؤ کرنا بچاؤ کرن
بڑائی کرنا وڈیائی کرن
عربی اردو سرائیکی پنجابی
خرج خرچ خرچ خرچ
مخ مِکھ(ہڈیوں کی) مکھ مکھ
مصالح صالو مصالا مصالا (مسالا)

فارسی اردو سرائیکی پنجابی
خیش کھیس کھیس کھیس
سیب سیب سیب سیب
کشکول کشکول کچکول کچکول
بارہ باڑا واڑہ واڑہ
ہزاروں ایسے الفاظ ایسے ہیں جن کا حرف اول ’’واؤ‘‘ ہے یہ الفاظ سندھی سرائیکی پنجابی یکساں طور پر رائج ہیں البتہ اُردو میں صوتیے ’’واؤ‘‘ کو ’’ب‘‘ کے ساتھ بدل دیا جاتا ہے۔
سرائیکی اردو
وٹ باٹ
واچھ باچھ
واڑ باڑھ
سرائیکی اور اردو کے بڑی تعداد میں ایسے الفاظ ہیں جو مشترک صوت اور ایک ہی طرح کے معنی میں رائج ہیں۔ صرف اس فرق کے ساتھ کہ سرائیکی الفاظ میں ب۔ج۔د اور گ کی جگہ دوسرے حروف نے لے لی ہے۔
سرائیکی اردو
اٹا آٹا
انب آم
اج آج
بڑ بڑ
ادھ آدھا
بکرا بکرا
بلا بلا
سرائیکی اور اردو میں زبان میں کچھ الفاظ سابقوں اور لاحقوں سے بنتے ہیں جو کہ مشترک ہیں

اردو (سابقے) سرائیکی
انمٹ انمٹ
پردیس پردیس
انمول انمول
انجان ان جان/ ان سُونہاں
ان پڑھ ان پڑھ
ان بن ان بن
سویر سویر/سویل

اردو (سابقے) سرائیکی
ہار: روون ہار روون ہار
پالن ہار پالن ہار
وال: بھائیوال بھائیوال
جوگن جوگن
دلڑی دلڑی
گھٹڑی گنڈھڑی
ہنر مند ہنر مند/ہنر وند
سرائیکی ‘ اردو زبانوں کے مزاج‘ ساخت اور محاورے میں بھی مشابہت ہے۔ اردو اور سرائیکی کے بہت زیادہ تعداد میں محاورے‘ ضرب الامثال ایسے ہیں جو مشترک ہیں۔
سرائیکی (محاورے) اردو
بادشاہ ہوون بادشادہ ہونا (صاحب حیثیت ہونا)
بھریا پیتا ہوون بھری بیٹھنا (شدید غصہ ہونا)
پاپڑ بیلن پاپڑ بیلنا (تگ و دو کرنا)
در چھوڑن در چھوڑنا (جدا ہونا)
سِر چڑھن سر چڑھنا (بگڑنا)
کھُل کے آکھن کھل کے کہنا (صاف واضح کہنا)

سرائیکی الفاظ/ تراکیب اردو الفاظ/تراکیب اردو ضرب الامثال
آپ مرادے آپ مرادے (خود غرض) آپ خورادے‘ آپ مرادے
آدربھا آدر بھاؤ (خاطر تواضع) آدر نہ بھاؤ‘ جھوٹے مال کھاؤ
اُتر اُتر (شمال) آپ رہیں اُتر کام کریں پچھم
(نہایت بے پرواہ
اگلا اگلا (مخالف) اگلا مارے اور رونے نہ دے
(ظالم شکایت کا موقع بھی نہ دے)
انت انت (آخر انتہا) بسنت‘ جاڑے کا انت
(بسنت سردیوں کا اختتام)
سرائیکی ‘ اردو زبانوں میں بہت سے الفاظ کا ذخیرہ ایسا ہے جو روزمرہ کاروبارِ حیات میں ایک ہی طرح سے رائج ہیں:
غذائی چیزیں
گوشت۔ اچار۔ چاول۔ دال۔ آٹا۔ مکھن۔ انب (آرام) گاجر۔ مولی۔ انگور۔ بادام۔ مٹر۔ ادرک۔ پان۔ مچھلی۔ گوبھی۔ قیمہ
مدرسے کی چیزیں
مدرسہ۔ اسکول۔ کالج۔ کمرہ۔ کورس۔ نصاب۔ عمارت۔ تاریخ امتحان۔ استاد۔ سلیٹ۔ قلم دوات۔
عام استعمال کی چیزیں
رومال۔ پاجامہ ٹوبی۔ کوٹ۔ بستر۔ کپڑا۔ چھتری۔ ٹوکری۔ قمیض۔
رشتے ناطے‘ اعضائے جسم‘ جانوروں کیڑوں مکوڑوں۔ گنتی کے الفاظ میں اشتراک موجود ہے۔
سرائیکی اور اردو زبان میں رسم الخط مشترک ہے۔ دونوں زبانیں خط نستعلیق میں لکھے جاتی ہیں۔
اردو‘ سرائیکی کے علاوہ دیگر پاکستانی زبانوں میں ۱۹ مشترک حروف املا حسب ذیل ہیں:
ا ب ح د ر س ص ط ع ف ق ک ل م ں و ہ ی ے۔
بھ پھ ٹھ تھ چھ دھ ڑھ زھ کھ گھ لھ مھ سھ کی
کی اصوات اردو‘ سرائیکی میں یکساں رائج ہیں۔
اُردو اور سرائیکی کے بے شُمار الفاظ ایسے ہیں جو تھوڑی بہت تبدیلی کے ساتھ بولنے میں مشترک اور لکھنے میں اُن کا سرائیکی سے لسانی اِشتراک کا اندازہ ہوتا ہے۔
’’ایک اندازے کے مطابق ساٹھ فی صد الفاظ ایسے ہیں جو سرائیکی اور اُردو میں مشترک ہیں جس سے یہ نتیجہ نکالنا غلط نہیں معلوم ہوتا کہ اِبتدائی مآخذ سرائیکی زبان ہے۔ اِس لحاظ سے جہاں سرائیکی بولنے والے دوسرے علاقوں کے لیے یہ بات وجہ افتخار ہے کہ اُردو جو آج ہماری قومی زبان کی حیثیت رکھتی ہے اُس کی تخلیق کا عمل ان کی سرزمین سے شروع ہوا۔‘‘
(۷)
اُردو اپنے صوتی اور ذخیرہ الفاظ سے تخلیقی زبان ہے جس میں انگریزی، عربی، فارسی، ترکی اور پاکستانی زبانوں، سندھی، سرائیکی، پنجابی، پوٹھوہاری و دیگر کئی زبانوں کے الفاظ شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ محققین اِس بات پر متفق ہیں کہ اُردو زبان کے پھلنے پھولنے میں دیگر بہت سی زبانوں کے ساتھ ساتھ سرائیکی کا بھی حصہ شامل ہے۔
سرائیکی اور اردو زبان کی مشترک لسانی خوبیاں
* سرائیکی اور اردو زبان میں ہر موضوع کو احاطہ کرنے کی صلاحیت موجود کیونکہ ان میں لامحدود ذخیرۂ الفاظ پیدا کرنے کی قوت موجود ہے دونوں زبانوں کے حروف تہجی میں مماثلت ہے۔( ۸)
* کسی زبان کے الفاظ کو فی سیکنڈ بولنے اور ان کی رفتار کو سمجھنے کی صلاحیت ایک خوبی تصور کی جاتی ہے اور فی سیکنڈ تحریری رفتار بھی زیادہ ہو تاکہ بہت جلد اظہار ممکن ہو۔ اس حوالے سرائیکی اور اردو زبان میں روانی (Flucncy) کا پہلو بہت نمایاں ہے۔
* دیگر زبانوں کے الفاظ کو اپنے اندر جذب کرنے کی صلاحیت اور دوسری زبانوں کی لغت سے فائدہ حاصل کرنا کسی زبان کی اہم خصوصیت شمار کی جاتی ہے تاکہ علم۔ سائنس اور دیگر علوم و فنوں میں مؤثر ابلاغ ہو سکے۔ اس حوالے سے سرائیکی اور اردو زبان میں یہ عالمگیر خاصیت موجود ہے۔
* زبان میں مٹھاس‘ صوتی تاثر میں ہم آہنگی‘ سماعتی تاثر کی خوبی اور معنوی حیثیت میں ذو معنویت کا کم سے کم ہونا۔ اس لحاظ سے بھی سرائیکی اور اردو زبان میں خوبیاں موجود ہیں۔
* دیگر زبانوں کے علوم کو ذخیرہ کرنے کی صلاحیت ‘ ترجمہ کی قوت‘ ہو بہو مطلب ادا کرنے کی سکت یعنی اصل متن کے قریب تر مطالب بیان کرنا جیسی خاصیت سرائیکی اور اردو زبان میں موجود ہے۔ اب دونوں زبانیں کمپیوٹر میں استعمال ہو رہی ہیں۔
* قواعد کے اعتبار سے سرائیکی اور اردو‘ دائیں سے بائیں لکھی جانے والی زبانیں ہیں اور اس کے جملے کی ساخت فاعل+فعل پر مشتمل ہے۔ اور دائیں سے بائیں تحریر لکھنا آسان خیال کیا جاتا ہے۔
فی زمانہ سرائیکی اور اردو‘ دونوں زبانیں اس نہج پر ہیں کہ انہیں ہم کثیر الالفاظ باثروت‘ کثیر الترجمہ‘ کثیر ا لتصنیف زبانیں کہہ سکتے ہیں۔ ترجمہ تلخیص اور تفصیل کی صلاحیت بدرجہ اتم ان زبانوں میں موجود ہے ان دونوں زبانوں میں جاذبیت اور ہم آمیزی وسعت پذیر ہے۔
’’مقتدرہ قومی زبان کے مرکز فضلیت برائے اُردو اطلاعیات نے مائیکرو سافٹ جیسے اداروں کے ساتھ مل کر بہت سے معیاری اوزار وضع کیے ہیں جن سے کمپیوٹر سکرین اردو میں بدلی ہے اردو میں ای میل ممکن ہوئی ہے اردو ویب سائٹ‘ برقیاتی کتاب برقیاتی اشاعت اور برقیاتی رابطوں کی صورتیں سامنے آئی ہیں ایک بُنیادی اردو فانٹ‘ پاک نستعلیق‘‘ کے نام سے ایجاد کیا گیا ہے جو خالی حروف کی بنیاد پر تمام پاکستانی زبانوں کو ایک ہی وقت میں پیش کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے‘‘ (۹)
جدید ٹیکنالوجی کا یہ پہلو اردو اور سرائیکی زبان میں نئی معنویت‘ ہم آہنگی اور وسعت بخشے گا۔ اور مستقبل قریب میں یہ اُمید کی جا سکتی ہے کہ مشینی ترجمہ سافٹ وئیر کام شروع کرے گا تو سائنسی تکنیکی‘ صحافتی ترجمے کے ساتھ ساتھ ادبی تخلیقات کا ترجمہ ہونے لگے گا جو کہ یقیناً عالمی سطح پر لسانی‘ تحقیقی‘ تدریسی‘ فن ترجمہ نگاری و دیگر بے شمار حوالوں سے امکانات نئی سرحدوں کو چھو سکیں گی۔
اردو زبان وطن عزیز پاکستان کے ہر کونے میں سمجھی اور بولی جاتی ہے۔ اردو زبان کو سمجھنے اور بولنے کی وجہ اس کے دامن میں اس خطے کی مقامی زبانوں کے الفاظ کی آمیزش ہے ۔ اگر اردو زبان کے ابتدائی ادوار کی نثر یا شاعری کی کتب کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ابتدائی ادوار کی اردو زبان میں مقامی زبانوں کے الفاظ ۔ مصادر۔ تراکیب۔ محاورے وغیرہ شامل ہیں اسی تناظر میں معروف محقق ڈاکٹر جمیل جالبی کی ’’قدیم لغت‘‘ کا حوالہ بے جا نہ ہوگا جس میں وہ لکھتے ہیں:
’’آپ کو اس لغت میں ہزاروں الفاظ ایسے ملیں گے جو پاکستان کی علاقائی زبانوں میں آج بھی زندہ و مستعمل ہیں اور یقیناًہمیں دعوت فکر دیتے ہیں کہ ان الفاظ کو دوبارہ اپنی تحریروں میں استعمال کر کے علاقائی زبانوں سے اور علاقائی زبانوں کو اردو سے قریب تر لایا جائے‘‘۔ (۱۰)
ڈاکٹر جمیل جالبی نے بہت اہم بات کی جانب توجہ دلائی ہے اس ضمن میں لوک ورثہ اسلام آباد‘ اکادمی ادبیات پاکستان‘ مقتدرہ قومی زبان اسلام آباد اور شعبہ پاکستانی زبانیں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد‘ پاکستان کے صوفی شعراء لوک ادب‘ لوک اصناف اور علاقائی ادب پر ترجمے اور تحقیق کا کام کر کے قومی فریضہ انجام دے رہے ہیں جس سے امید کی جا سکتی ہے کہ مستقبل میں اردو زبان کے ذخیر�ۂ الفاظ میں وسعت پیدا ہوگی۔
بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اردو اور پاکستانی زبانوں باالخصوص سرائیکی میں یکجہتی کا رشتہ انمٹ ہے جس کے بارے میں ‘ احمد ندیم قاسمی کہتے ہیں: ’’اردو کا مستقبل روشن ہے اگر پنجابی سرائیکی سندھی بروہی پشتو اور بلوچی ادب سے استفادہ کرتی رہے گی تو اُردو اور ترقی کرے گی‘‘۔

پوسٹ ٹیگز:

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*
*