پرایا کرنے کے ماہر لوگ اور 2020 کی ریزولوشن…منصور ہاشمی

[email protected]

سترہ بسوں کا قافلہ تھا اور یہ شاید کسی کالج کی تاریخ کی سب سے بڑی پکنک ھو۔ ہر بس میں ایک انچارج تھا جو بس میں موجود تمام طالب علموں کا اس دن کا خادم تھا ۔ اس وقت جوانی اور سیاسی ذمہ داری کے حساب سے میں کالج کا ناظم تھا اور جمعیت نے یہ اتنی بڑی پکنک کا انتظام کیا تھا ۔ پورے راستہ میں جب بھی کسی کمزور اور بظاہر سادہ طالب علموں کا مذاق اڑایا جاتا تو لڑے بغیر بس آنکھ کے اشارے یا دوست کے کندھے ہر ہاتھ رکھ کر “گزارش ” کرتے تو دوسرا غریب bullying یا بدمعاشی سے بچ جاتا ۔
ایک دن گول باغ چند ساتھیوں کے ساتھ حسب معمول شیخ ہوٹل سے والد کے خوراک کے لئے لے کر دئیے ھوئے پرچیوں پر عیاشی کرنے گیا دیکھا چند شرارتی طالب علم بہت ہی گھٹیا پن پر اتر آئے تھے۔ کہ ایک سادہ اور دیہاتی بزرگ کے چادر پہننے پر مذاق اڑا رہے ہیں۔ مجھے ایسے لگا جیسے وہ میرے والد کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ میں ان کے پاس گیا اور کہا کہ ایسا مت کرو جو انہوں نے نظرانداز کیا لیکن میرے ساتھ موجود ساتھیوں نے ان کو اپنے انداز میں سمجھایا تو وہ وہاں سے رفو چکر ھوئے۔ اس طرح کی ” بین الامزاہب” مثالوں سے سٹوڈنٹ لائف پر ھے اور میرے جمعیت کے اندر رہنے کے آخری دنوں میں ھونے والے چند واقعات نے بالآخر مجھے جمعیت سے کنارہ کشی پر مجبور کیا لیکن جو انسان اپنی مخالف جماعتوں کے لوگوں کو خفیہ طور پر کسی ممکن نقصان سے بچاتا پھرتا ھو وہ اس جماعت کے ساتھ کیسے دوری اختیار کر سکتا ھے جس نے اس کی ٹریننگ اور زندگی میں اھم رول ادا کیا ھو ۔ لیکن بہر حال کھلے ذہن کے ساتھ عمران خان کی حمایت میں اتر آئے ۔
2019 میں عمران خان کی حمایت میں تیزی آئی ۔ لیکن جو بات آج دکھ سے بتانا مقصود ہے وہ یہ ھے کہ پاکستان کے پڑھے لکھے لوگوں سے جب بیس سال بعد ڈے ٹو ڈے کی بنیاد پر تعلق دوبارہ استوار ہونا شروع ھوا تو انہوں نے 2019 میں کھود کھود کر اور bullying کو سہارا بنا کر میرے اندر سے جماعتی بندہ باہر لانے کی اپنی سے گھٹیا کوشش کی جماعت نے نہ کبھی شکایت کی نا نفرت ۔ اس کو چھوڑنے کے باوجود جب بھی ان لوگوں سے ملا انہوں نے گلے لگایا اور اسی احترام کو اپنایا جس کے تحت پہلے وہ تھے ۔ لیکن آزاد خیال جو نقاب کی آڑ میں آزاد نظر آتے ہیں انہوں نے اس بات کی ھمت کی اور کوشش کی کہ مجھے میرا ماضی یاد کروا کروا کر مجھے واپس جماعت کا ممبر بنائیں۔
اب ایک اسلام آباد کے اٹیلیکچول کا فقرہ سن لیں ” آپ کمنٹ کرنے سے پہلے سراج الحق سے پوچھ لیں ” ( by God he is not Dr salahudin derwash”
ایک ملتان کے مہاشے کا سن لیں ” آپ اندر سے ابھی بھی جماعتی ہیں”
اور معلوم نہیں کیا کیا ۔
اس طرح کے اتنے واہیات حضرات سے واسطہ پڑا الامان۔ ان کی اپنی اندر کی شخصیت پرستی اور بت پرستی اتنی پر زور ھے کہ وہ سمجھتے ہیں ان کے سامنے والا بھی ان کی طرح ذہنی غلام ھے ۔ لیکن ان کی اس کوشش کو ثمر ملنے کا امکان پیدا ھو رہا بے اور میں بہت سے کامیاب سیاستدانوں سمیت اور محسن شاہین اور اپنے جیسے ناراض دوستوں کو کہتا ھوں ایسا ہے تو ایسا ہی سہی کیوں نہ تربیت دینے والی ماں کی طرف لوٹ چلیں۔ شاید جاوید ہاشمی بھی اپنی زندگی کی عمر میں اس پر عمل کریں اور جس وجہ سے جماعت اب تک کمزور ھو جایا کرتی ہے کہ جن جن کو وہ تربیت دیتی ھے ان کو دوسری جماعتیں اچک کر لے جاتی ہیں ۔کیوں نہ وہ اسی میں رہ کر جماعت کو بہتر انصاف پسند ،جمہوریت پسند جماعت اور اصل ڈیموکریٹک پارٹی کے طور پر قبول کریں اور اس کو کامیاب کریں۔

پوسٹ ٹیگز:

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*
*