سرائیکی ثقافتی دن اور سرائیکی اجر ک : جام اظہرمراد لاڑ چیئرمین سرائیکی فائونڈیشن

سرائیکی ثقافتی دن اور سرائیکی اجر ک جام اظہرمراد لاڑ چیئرمین سرائیکی فائونڈیشن 6مارچ سرائیکی ثقافتی کا دن ہے جس کو ہم ’’یوم سرائیکی ثقافت ‘‘کہتے ہیں ۔اس دن کو اب الحمداللہ پوری دُنیا میں منایا جاتا ہے ۔زندہ قومیں اپنی ثقافت اور تاریخ کو ہمیشہ یاد رکھتی ہیں جو قومیں اپنی ثقافت کو بھول جائیں اُن کا نام تک باقی نہیں رہتا ۔پاکستان میں بسنے والی تمام قومیں اور مختلف زبانوں سے تعلق رکھنے والے اپنی زبان اور ثقافت کے نام پر سال میں کوئی نہ کوئی دن مناتے ہیں تاکہ آنے والی نسلوں کو اپنی ثقافت کی پہچان رہے اور وہ اپنی ثقافت سے جڑی رہی ۔اسی طرح کچھ سالوں سے سرائیکی قوم بھی ’’سرائیکی ثقافتی دن ‘‘6مارچ کو ہر سال جوش وخروش سے مناتی ہے اس دن کی مناسبت سے پورے سرائیکی وسیب میں مختلف حوالوں سے مختلف تقریبات منعقد ہوتی ہیں ان تقریبات میں سیمینارز،کانفرنسز ،واک ،سرائیکی جھُمر ،ڈھول ،شرنا ،سرائیکی روایتی لباس ،پٹکا ،کھسہ،اور سرائیکی وسیب میں تاریخی مقامات مثلا ڈیروار،پتن منارا،روہی چولستان،تھل دامان اور وسیب میں تاریخی قلعہ جات جن کا ہماری ثقافت سے گہرا تعلق ہے ان کو سرائیکی ثقافت کا اہم حصہ سمجھا جاتا ہے اس ساری تہمہید کا مقصد یہ تھا کہ سرائیکی ثقافت میں ایک نئی چیز جو کہ ہماری ثقافت کے حوالے سے اب ہماری پہچان بن چکی ہے وہ ہے ’’سرائیکی اجرک‘‘۔بہت سارے لوگ کہتے ہیں کہ سرائیکی اجرک کون سا قدیمی ہے یہ تو اب بنی ہے قدیمی اجرک تو سندھی ہے سرائیکی کا پٹکا ہے کھسہ ہے اور بہت ساری چیزیں ہیں مگر سرائیکی اجرک یہ سرائیکی ثقافت کا حصہ نہیں ہے میں اُن لوگوں کو یہ جواب دینا چاہتا ہوں کہ سرائیکی اجرک کا آئیڈیا نیا ہے مگر سرائیکی اجرک جن کلروں سے بنی ہے وہ کلر سرائیکی تاریخی سرائیکی ثقافتی کی عکاسی کرتے ہیں سرائیکی اجرک کے جو کلر ہیں وہ سرائیکی کلر ہیں یہی سرائیکی ثقافت کی پہچان کے کلر ہیں سرائیکی اجرک بہت کم دنوں میں اتنی مقبول ہوئی ہے اتنی آج تک کوئی چیز مقبول نہیں ہوئی اخبارات میں دیکھیں ،شوشل میڈیا پر دیکھیں ،ملک کے وزیراعظم ،وزراء ،ممبران قومی اسمبلی ،صوبائی اسمبلی حتی کہ وزیراعلیٰ سمیت ملک کے آہم سیاستدانوں کو اخبارات یا ٹی وی میں دیکھیں تو کبھی کبھار اُن کے گلے میں سرائیکی اجرک ضرور ہوتی ہے ۔سرائیکی اجرک سرائیکی قوم کی پہچان بن چکی ہے اب میں یہ کہنا فخر سمجھتا ہوں کہ سرائیکی اجرک کے بغیرسرائیکی ثقافتی اُدھوری ہے اور ایک بات یہ کہ ہمیں مختلف تقریبات میں جانا ہوتا ہے تو ہم کوشش کرتے ہیں کہ سرائیکی اجرک پہن کر جائیں مگر کبھی کبھار سرائیکی اجرک ہمارے گلے میں نہ ہو تو ایسے محسوس ہوتا ہے کہ ہم سرائیکی نہیں ہیں ۔سرائیکی اجرک کی تاریخ تو جناب ظہور دھریجہ ہی تحریر کرسکتے ہیں میں صرف کوشش کررہا ہوں کہ سرائیکی اجرک کے حوالے سے میری جو احساسات ہیں اور جو کچھ میں سرائیکی اجرک کے حوالے سے محسوس کرتا ہوں وہ رقم کردوں ۔ہاں ایک اور بات وہ یہ کہ جہاں سرائیکی اجرک کا نام آئے اور ظہور دھریجہ صاحب کا نام نہ ہو یہ بھی بہت بڑی زیادتی ہوگی ۔ظہور دھریجہ کا نام سرائیکی تحریک کے حوالے سے نمایاں ہے ۔میں ظہور دھریجہ صاحب کو سرائیکی تحریک کے حوالے سے اپنا آئیڈیل مانتا ہوں ۔سرائیکی تحریک کی آبیاری کے لئے جس طرح ظہور دھریجہ صاحب دن رات ایک کیے ہوئے ہیں اس کی مثال نہیں ملتی ۔ظہور دھریجہ صاحب کا سرائیکی اجرک کے حوالے سے آئیڈیا قابل تحسین ہے اور اس آئیڈیا کو جتنا فروغ ملا ہے اس کی بہت کم مثالیں ملتی ہیں ۔سرائیکی اجرک کو 6مارچ سرائیکی ثقافتی دن کے موقع پر جو آہمیت حاصل ہے وہ کسی کو نہیں لیکن جس طرح ہم نے سرائیکی اجرک کو پذیرائی بخشی ہے اسی طرح ہمیں اپنی سرائیکی ثقافتی کی تمام چیزوں کو زندہ رکھنا ہوگا ۔ اور ان چیزوں کو زندہ رکھنے کیلئے ہم 6مارچ کا سرائیکی ثقافتی تاریخی دن مناتے ہیں ۔

پوسٹ ٹیگز:

seraikisaraiki

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*
*