YOU ARE RESPONSIBLE OF YOURSELF NOT ME Along with “میرا جسم میری مرضی ” منصور حسن ہاشمی

منصور حسن ہاشمی

آپ میرے اور میں آپ کے اعمال کا ذمہ دار نہیں لیکن ھم اپنی سابقہ زندگی سے ایک دوسرے کی زندگی میں پوری طرح مداخلت کرتے ہیں ۔ ایک دوسرے کی زندگی کو گلشن و گلزار یا جہنم بنانے میں پورا عمل دخل رکھتے ہیں ۔
آپ کی مرضی اور آپ کی آزادی مجھے متاثر نہ کرتی اگر ھم دونوں میں سے ایک جنگل میں رہتا ھم آپس میں نہ ملتے، آپس میں شادیاں نہ کرتے ، رشتہ داریاں نہ نبھاتے اور ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھ کر بات چیت، کھانا اور سوشلائزیشن نہ کرتے ۔ آپ جو چاہتے کرتے اور میرا جو دل کرتا میں کرتا ۔ خوش قسمتی سے یا بدقسمتی سے ہر انسان ایک دوسرے سے جڑا ھے اس کی ضروریات، اس کے مسائل اور حاجات ایک دوسرے کے مرہون منت ہیں آپ نے اگر ساری زندگی لگا کر اپنے بیٹے اور بیٹی کو اچھی تعلیم دی، اس کی ہر ضرورت کا خیال رکھا ،اس کی تعلیم میں انسانی خواہشات، ہیومن رائٹس ، مذہب، معاشرت ،ھمدردی، صلہ رحمی ، سیاست، اور محبت کا پرچار کیا ۔ آپ کا بچہ زندگی میں دھوکہ دینے کا عادی نہیں ۔ اور پھر میری یا کسی اور کی بیٹی اس کی زندگی میں داخل ھوئی جس کو پر روز زندگی میں تشدد، بے رحمی، خودغرضی، چوری چکاری ، لوٹ مار،موقع پرستی، ہوس اور لالچ سے بھر کر شامل ھوئی تو میں صرف اس نے اس بچے کی زندگی تباہ کرنا ہے بلکہ اس کے اصول و ضوابط اور شرافت کا ہر پہلو برباد کرنا ھے اس سے ایک گھر نہیں بلکہ کئی گھر مسلسل عذاب سے گزریں گے اور وہ جوڑا تو عذاب میں ھوگا ہی لیکن اس بچے کی انفرادی زندگی ایک عذاب بن کر گزرے گی ۔ لیکن معاشرہ اس نظریے سے نہیں دیکھے گا بلکہ وہ ایک بے رحم جج بن کر اس مرد کو ہی مورد الزام ٹھہرائے گ اس کے احساسات کو سینچ سینچ کر نازک اور گوندھ گوندھ کر محبت ڈالی ھو اس کو انسانیت سکھانے میں زندگی کے کم از کم دو دھائیاں گزر گئیں ھوں اس کو نازک آبگینے میں رکھ رکھ ایک ایک نوالہ محبت کی روٹی اور پیار کا سالن لگا کر دیا ھو۔ چاہے اس کو مذہب اور آزادی کے اعلی ترین علم سے سنوارنے کی کوشش میں آپ کی زندگی لگ گئی ھو۔ کسی اور کا بیٹا جس نے ایک تکلیف دہ ماحول میں آنکھ کھولی، ماں باپ کی الجھی شخصیت اور دبی خواہشات کی آگ میں آہستہ آہستہ پکا ھو ۔ہر رات اور ہر دن انتقام اور محرومی سے گزرا ھو ۔ وہ اپنے لمحوں کو سنوارنے میں خاندان کی ،اس بچی کی پوری زندگی کی تپسیا برباد کرنے میں کوئی کمی نہیں چھوڑے گا ۔ کوئی بچی ھو یا بچہ اپنی خواہشات کو پوری کرنے کی خاطر جال بچھا کر دوسروں کی زندگی برباد نہیں کر سکتا اور اس بنیاد پر پھر مظلومیت کا پاٹ نہیں سنا سکتا ۔ اگر آپ نے اپنی بچی کو زندگی کے اصول نہ سکھا کر بڑا کیا ھے تو میں معذرت خواہ ھوں اس میں قصور میرے بچے کا نہیں ہے اور اگر میں نے اپنی بچی کو صحیح نہیں پالا تو وہ یہ کہہ کر اپنی مرضی زندگی پر مسلط نہیں کر سکتی عورت ڈے ھو یا مرد کا دن ،اصول اور بھروسہ پر ھے ۔ کسی کو جھوٹ بول کر اپنی faulty پروڈکٹ کی مارکیٹنگ سے پرہیز کریں ۔ اگر آپ کا مال گلا سڑا ھے تو اس کو خود برداشت کریں کسی اور بے چارے کی جنت کو برباد مت کریں ۔ اور پھر ہیومن رائٹس کے چیمپئین بن کر مظلوم بن کر مت دکھائیں
سوشل میڈیا میں صرف ایک بات دکھائی جاتی ہے اور سیاق و سباق سے ہٹ کر چند خواجے ہر کسی کو یہ کہہ کر مذاق اور bullying کرتے نظر آتے ہیں کہ آپ کو نہیں معلوم ۔ اچھا جی ھمیں نہیں معلوم تو آپ کو اب اللہ کی طرف سے بند وحی کب سے شروع ھوئی ۔ ہر انسان اپنا بوجھ خود اٹھائے، ھمدردی صرف اس سے کی جا سکتی ہے جو مجبوری میں کسی برائی میں دھکیلا گیا یا حادثات نے اس کو مجبور کیا ۔
میرا نکما پن ، آہن بھرا مزاج اور اناپرست سوچ اور نہ سیکھنے کی عادت نے، عیاشی اور اگنورنس مجھے اس بات کا مستحق نہیں بناتی کہ ایک انسان جس نے ساری زندگی مشکلات میں پڑ کر بھی زندگی کو محبت سے بھرا ھو وہ میری خاطر ایک دفعہ پھر سے کسی اگنورنٹ کی خاطر میرا جسم میری مرضی کی بھینٹ چڑھے

[email protected]

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*
*