سرائیکی حقوق چاہتے ہیں فسادنہیں! راشد عزیز بھٹہ

سرائیکی حقوق چاہتے ہیں فسادنہیں

سرائیکی تحریک کے لوگ ایک عرصہ سے تختہ مشق بنے ہوئے ہیں، ظہور دھریجہ کے ساتھ ساتھ اب عاشق بزدار بھی لپیٹ میں آچکے ہیں 4اگست 2017ءکے روزنامہ خبریں میں میاں ظہیر کے نام سے ایک تحریر چھاپی گئی ہے جس کا ایک ایک لفظ گواہی دے رہا ہے کہ لکھاری کے پاس تعصب کے سوا کچھ نہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ ”خبریں کے ادارتی صفحات پر برسوں سے متعصب تنگ نظر سندھی النسل ظہور دھریجہ کی تنگ نظری پر مبنی کالم شائع ہورہے ہیں۔ خبریں والوں بالخصوص چیف ایڈیٹر کو فون کرکے ان سے گلہ کیا جائے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم آزادی اظہار کے قائل ہیں۔ “میں بتانا چاہتاہوں کہ جس شخص کی پہلی سطر ہی تعصب اور تنگ نظری سے شروع ہورہی ہے توبتائےے کہ وہ متعصب ہے یا ظہور دھریجہ۔اس نے دھریجہ صاحب کو تنگ نظر سندھی النسل لکھامیرا خیال ہے کہ میاں ظہیر خود تنگ نظر ہندوستانی ہے۔ آگے چل کر وہ لکھتے ہیں کہ ”جب فورٹ واہ اور عباسیہ و دیگر نہریں ہیڈ سلیمانکی سے نکلیں تو سابق ریاست بہاول پور کے مختلف علاقوں میں سلانکی، منچن آباد،بہاول نگر، ہارون آباد، چشتیاں، فورٹ عباس اور یزمان وغیرہ میں بے شمار غیر ریاستی لوگوں نے قسطوں پر زمینیں خریدیں۔ یہ نواب صاحب نے بلا معاوضہ تقسیم نہیں کی تھیں جب تک زمین کا ایک ایک پیسہ ادا نہیں ہوا فرد ملکیت جاری نہیں ہوئی۔“ آبادکاری پوری دنیا کا حساس مسئلہ ہے پوری دنیا کی تاریخ پڑھ کر دیکھیں آبادکاری نے مقامی لوگوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیاامریکا، آسٹریلیا،کینیڈااور دنیا کے دوسرے ممالک میں دیکھئے کہ آباد کاروں نے مقامی لوگوں کا کیا حشر کیا۔ اب میاں ظہیر کہہ رہے ہیں کہ قسطوں میں زمینیں خریدیں اور ایک ایک پیسہ ادا کیامیں کہتا ہوں کہ سابق ریاست بہاول پور میں آباد کاری کی تاریخ پڑھےے، آٹھ آنے بارہ آنے فی ایکڑ زمین اور وہ بھی قسطوں میں۔ریاست میں گھڑ پال سکیم،بوٹی پال سکیم، بھیڈ پال سکیم اور اس طرح کے دوسرے گھتو اور فراڈی منصوبے شروع کرکے جس طرح ریاست کو لوٹا گیا چولستان کو لوٹا گیا سرائیکی وسیب کے تھل کو لوٹا گیا، دامان کو لوٹا گیا، دھندی اسٹیٹ کو لوٹا گیا، اس لوٹ مار کا کون حساب دے گا؟میاں ظہیر کہہ رہا ہے کہ ایک ایک پیسہ ادا ہوا، یہ بھی کہہ رہا ہے کہ میں لاہور رہتا ہوں اس میں اگر ذرہ برابر شرم اور حیا ہے تو لاہور میں کسی سرائیکی کو ایک مرلہ زمین لے کر دے میں مان لوں گا، شرمناک بات تویہ ہے کہ سیلاب سے دس سرائیکی اضلاع پانی میں ڈوب گئے کروڑوں لوگوں کے گھر صفحہ ہستی سے مٹ گئے۔ متاثرین کو گھر دینے کی بجائے بے شرمی کے ساتھ آشیانہ ہاﺅسنگ سکیمیں لاہور میں شروع کر دی گئیں اور سرائیکی اضلاع کے نام لکھ کر یہ پابندی لگا دی گئی کہ سرائیکی اضلاع کے لوگ درخواست بھی نہیں دے سکتے۔ اس سے بڑھ کر فراڈ کیا ہوسکتا ہے؟ ایسی باتیں ہمارے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہیں۔
میاں ظہیر مزید لکھتے ہیں کہ ”اب بزدار صاحب کے پیٹ میں تکلیف اٹھی ہے اور وہ فرماتے ہیں ”سرائیکی خطہ پر سو دو سو تین سو سال قبل یہاں آکر آباد ہونے والے بلوچوں اور 1926ءمیں مشرقی پنجاب سے یہاں لا کر آباد کےے گئے پنجابیوں کی طرف داری اور سرائیکیوں کی تاریخی قومی حیثیت سے انکار کرنے والے قابل مذمت ہیں۔ کیا اس طرح یہاں بسنے والے کروڑوں سرائیکیوں کی دل آزاری نہیں ہوتی۔“ بزدار صاحب نے کوئی غلط بات نہیں کی کسی کی حیثیت کا انکار کفر کے مترادف ہے۔ آپ لکھتے ہیں کہ ”جناب مسئلہ سرائیکی زبان و تہذیب کا نہیں جس سے کسی کو کوئی انکار نہیں اصل تکلیف زمینوں کی ہے جسے واپس جسے واپس لے کر دھریجے اور بزدار قسم کے لوگ خود ہڑپ کرنا چاہتے ہیں اگر یہ تحریک شروع ہوگئی تو جنوبی پنجاب اور سابق ریاست بہاول پور کی گلی گلی ہنگامے اور گاﺅں گاﺅں نفرت پھیلے گی اور خون خرابہ ہوگا کیونکہ جس سے آپ اس کی زمین اور مکان ہتھیانے کی کوشش کریں گے تو لازماً لڑنے مرنے پر تیار ہوگا اور اولیاءاللہ کی زمین صوفیوں اور عالموں کی یہ سرزمین آگ اور خون کا شکار ہوجائے گی اور یہی ”را“ والے چاہتے ہیں۔“بزدار صاحب کی یہ بات بھی تاریخی حقائق پر مبنی ہے میں بتانا چاہتا ہوں کہ میں خود بہت بڑے مذہبی گھرانے کا فرد ہوں شیخ العرب والعجم مولانا عبداللہ درخواستی کے خانوادے سے میرا تعلق ہے حق تلفی جہاں ہوگی وہاں آواز تو اٹھے گی نہ۔
میاں ظہیر مزید لکھتے ہیں کہ ”ستم یہ کہ بزداری سوچ دھریجہ کو سرائیکی دھرتی ماں کا سپوت قرار دیتی ہے جبکہ دھریجہ صاحب خود لکھ چکے ہیں کہ ان کے بزرگ سندھ سے نقل مکانی کرکے خان پور آئے تھے اور اب خود کو سرائیکی کاز کا چیمپئن قرار دیتے ہیں۔“ میں میاں ظہیر کو بتانا چاہتا ہوں کہ تم لاہور رہتے ہو اور اپنا تعلق بہاول نگر سے بتاتے ہو تم کو معلوم ہی نہیں کہ ظہور دھریجہ نے بہاول نگر کی محرومی کے خاتمے کےلئے کتنا کام کیا بہاول نگر کے مسائل پر کتنے کالم لکھے، ستلج کی بندش پر کتنا کچھ لکھا، امروکا بٹھنڈہ ریلوے لائن چالو کرنے کے لےے کتنے کالم لکھے۔چولستان میں پیاس سے مر جانے والوں کے لےے کتنی آواز بلند کی اور بہاول نگر سمیت چولستان کے علاقوں میں ناجائز شکار پر کتنا کچھ لکھا اورپانی نہ ہونے کے باعث مٹتی ہوئی ستلج تہذیب پر کتنے کالم لکھے۔ یہ سب کچھ خبریں کے ریکارڈ سے مل سکتا ہے۔ اگر آپ میں بہاول نگر کی ماں دھرتی کا ذرہ برابر بھی احساس ہوتا تو ظہور دھریجہ یا عاشق بزدار کےخلاف نہیں بہاول نگر کے مسائل پر لکھتے۔تم کو ظہور دھریجہ دھرتی کا سپوت لکھنے پر اعتراض ہے باربار بے شرمی کے ساتھ لکھتے ہو کہ ظہور دھریجہ سندھی النسل ہے میں پوچھتاہوں کہ ظہور دھریجہ کے ادارے نے ایک ہزار سے زائد سرائیکی کتب شائع کیں، تم ایک کتاب تو دکھا دو جو سندھی میں ہو۔ ظہور دھریجہ نے پہلا سرائیکی اخبار جھوک سرائیکی میں شائع کیا۔ ان کی کوئی ایک تحریر تو سندھی میں دکھا دیں۔ ہزاروں تقریبات مشاعرے اور جلسے کیے کوئی ایک تو بتاﺅ جو سندھی میں ہو۔
تم شرم کرو، ضیاءالحق کا ڈومیسائل خیبرپختونخوا کا اور جسٹس افتخار چودھری کا بلوچستان کا تھا اس کے باوجود ان کو تو تم پنجابیوں کا فخر کہتے ہو اور ظہور دھریجہ کیونکہ سرائیکی قوم کا محسن اور فخر ہے اس کے پیچھے ہاتھ دھوکر پڑگئے ہو۔ لیکن یاد رکھو کہ تمہاری جھوٹی باتوں سے تم تو جھوٹے سازشی اور مکار ثابت ہورہے ہو ظہور دھریجہ اور عاشق بزدار کو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔
( سرائیکی ایکشن کمیٹی کے مرکزی چیئرمین ہیں)

 

پوسٹ ٹیگز:

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*
*