یارانِ نقطہ داں کے لئے تحریر: پروفیسر ناصر جمال ناصر

 

یارانِ نقطہ داں کے لئے

تحریر:پروفیسرناصر جمال ناصر

خونی لبرل آجکل ترکی ڈراما ارطغرل کے پاکستان میں نشر ہونے پر بہت پیچ و تاب کھا رہے ہیں۔ آخر کار اس ڈرامے میں ایسا کیا ہے جس کی ہمارے نام نہاد دانشوڑوں کو تکلیف ہے۔ درحقیقت اصل تکلیف انہیں ڈرامے سے نہیں بلکہ اسلام اور اسلام کی حقانیت سے ہے۔ تکلیف ہے انہیں اسلام کے اُس پیغام سے جو اس ڈرامے کے زریعے مسلم نوجوان نسل تک پہنچ رہا ہے۔ انہیں خوف ہے کہ کہیں اس ڈرامے کے زریعے مسلمانوں میں جذبہ ایمانی پھر سے نہ بیدار ہو جائے۔ وہ حمیت اور ایمان جو کبھی مسلمانوں کی میراث ہوا کرتا تھا۔۔ علامہ اقبال بھی اپنی شاعری کے زریعے مسلم نوجوانوں کے دلوں میں یہی جذبہ ایمانی اور جذبہ حرّیت جگانے کے لئے کوشاں رہے۔جیسا کہ اپنے اس شعر میں مسلم نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں
کبھی اے نوجواں مسلم تدبر بھی کیا تو نے
وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا

جذبہ ایمانی کے تحت جب انسان کے دل میں اللہ کا خوف پیدا ہو جائے تو وہ دنیا کے ہر خوف سے آزاد ہو جاتا ہے۔۔ پھر وہ اپنے معاملات اللہ پر چھوڑ دیتا ہے۔۔ اُس کا ہر عمل اللہ کے حکم کے تابع ہو جاتا ہے اور یہی اس ڈرامے کا مرکزی خیال بھی ہے ۔۔ بہت سے مواقع پر اس ڈرامے کے کرداروں کے سامنے دشمنوں سے مقابلہ کرتے ہوئے جب موت سامنے ہوتی ہے تو وہ تعداد میں کم تر ہونے کے باوجود حق کی خاطر ‘ اللہ کے لئے’ کا نعرہ لگا کر اسلام کے دشمنوں سے لڑ جاتے ہیں۔۔۔ شہادت ان کے نزدیک بڑی کامیابی ہے ۔۔۔ اقبال نے بھی تو ایسے لوگوں کے بارے میں کہا تھا
شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن
نہ مالِ غنیمت نہ کشور کشائی
اس ڈرامے میں اس شعر کی بھرپور عکاسی کی گئی ہے اور ایسی باتیں ہی لبڑلز کو کھٹکتی ہیں۔۔
دراصل اس ڈرامے کے زریعے اسلامی اصولوں کی روشنی میں حق و انصاف پر مبنی نظام قائم کرنے پر زور دیا گیا ہے۔۔۔ یہی نہیں ڈرامے کے دوران کہانی سے ہٹ کر قران وحدیث کی تشریح کی جاتی ہے نبی کریمؐ کی حیاتِ طیبہ کا ذکرِ خیر کیا جاتا ہے ۔۔ غزوات کی تفصیل اور صحابہ کرامؓ کے واقعات سے نئی نسل کو روشناس کروایا جاتا ہے ۔۔۔ دوسری اہم بات جو اس ڈرامے میں دکھائی گئی ہے وہ ہے سازشیوں اور ملک و قوم سے غداری کرنے والوں کا عبرت ناک انجام جس میں بنا کسی رحم کے غداروں کے سر قلم ہوتے دکھائے گئے ہیں ۔۔۔ جہاں تک ڈرامے میں پیش کی گئی ثقافت سے اختلاف کا مسئلہ ہے اس بات میں بھی کچھ زیادہ وزن نہیں۔ ڈرامے میں پیش کی گئی ثقافت میں اسلامی اقدار کا بھرپور خیال رکھا گیا ہے بلکہ پیش کئے گئے بہت سے اطوار و اقدار ہماری علاقائی ثقافت سے مماثلت رکھتے ہیں مثلاً تعزیت پر سورہ فاتحہ پڑھنا ۔۔ اقارب کی قبروں حاضری کے وقت پانی کا چھڑکاو کرنا ۔۔ خاندانی نظام وغیرہ وغیرہ ۔۔۔ ڈرامہ دیکھتے ہوئے بہت سے مواقع پر تو ایسا محسوس ہوتا ہے ہماری ہی ثقافت پیش کی جا رہی ہے۔۔۔ قارئین کو یاد ہوگا کوئی آٹھ نو سال قبل محلاتی سازشوں اور حکمرانوں کی عیاشیوں پر مبنی میرا سلطان نامی ایک ترکی ڈراما پاکستان میں نشر ہوا اور خاصا مقبول بھی ہوا تھا۔۔اس ڈرامے میں سلطان کے حرم میں موجود کئی بیویاں اور ان گنت concubines تھیں ۔۔۔ اِس ڈرامے سے تو ہمارے ملک کے دانشوڑوں کی ثقافت کو کوئی نقصان نہیں ہوا۔ اگر مسئلہ ہے تو صرف ایسے ڈراموں سے جن میں اسلام کا ذکر ہو ۔۔۔۔

(یاد رہے کہ راقم الحروف نے یہ رائے ارطغرل کے تقریباً چار سو اقساط پر مشتمل پانچ سیزن دیکھنے کے بعد قائم کی ہے)

 

پوسٹ ٹیگز:

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*
*